راحت
فتح علی
دِلی میں
زیر
حراست
مشہور
پاکستانی
گلوکار
راحت فتح
علی خان
کو بھارت
کے
ریونیو
انٹیلی
جنس کے
اہلکاروں
نے دلی
کے ہوائی
اڈے پر
حراست
میں لیا
ہے۔ وہ
مبینہ
طور بڑی
مقدار
میں غیر
ملکی
کرنسی کے
ساتھ سفر
کر رہے
تھے۔

سرکاری
ذرائع نے
ایک خبر
رساں
ادارے کو
بتایا کے
ان کے
پاس ایک
لاکھ
ڈالر سے
زیادہ
رقم تھی
جس کے
بارے میں
انہوں نے
کسٹم کے
اہلکاروں
کو نہیں
بتایا
تھا۔
بھارتی
قوانین
کے تحت
بڑی
مقدار
میں غیر
ملکی
کرنسی
لانے
والوں کو
ائرپورٹ
پر ہی
کسٹم کے
اہلکاروں
کو اس کی
اطلاع
دینا
لازمی
ہے۔
بعض
اطلاعات
کے مطابق
پاکستانی
گلوکار
کو
گرفتار
کر لیا
گیا ہے
لیکن اس
کا
باقاعدہ
طور پر
اعلان
نہیں کیا
گیا ہے۔
این ڈی
ٹی وی کے
مطابق
سنٹرل
بورڈ آف
ایکسائز
اینڈ
کسٹمز کے
چیئرمین
ایس دت
موجمدار
نے اس
واقعہ کی
تصدیق کر
دی ہے۔
ان کے
مطابق
راحت فتح
علی خان
ایک
ایونٹ
مینیجر
کے ساتھ
دبئی جا
رہے تھے۔
ایونٹ
مینیجر
کو بھی
حراست
میں لیا
گیا ہے۔
ریونیو
انٹیلیجنس
کے
اہلکار
ان سے اس
رقم کے
بارے میں
پوچھ گچھ
کر رہے
ہیں۔ خبر
رساں
ادارے پی
ٹی آئی
کے مطابق
ریونیو
انٹیلیجنس
کو اس
بات کی
پیشگی
اطلاع
تھی کہ
راحت
اتنی بڑی
رقم کے
ساتھ سفر
کر رہے
ہیں۔
راحت فتح
علی خان
ہندوستان
میں بہت
مقبول
ہیں اور
اکثر
یہاں آتے
رہتے
ہیں۔ حال
ہی میں
انہوں نے
بھارتی
گلوکار
سونو نگم
کے ساتھ
ٹی وی پر
موسیقی
کے ایک
پروگرام
میں جج
کے فرائض
بھی
انجام
دیے تھے۔
چھوٹے
استاد
نامی اس
شو میں
بھارت
اور
پاکستان
کے بچوں
نے حصہ
لیا تھا۔
حال ہی
میں ایک
اور
پاکستانی
فنکار
عدنان
سمیع کے
خلاف بھی
غیر ملکی
کرنسی سے
متعلق
قوانین
کی خلاف
ورزی کے
الزام
میں
کارروائی
کی گئی
تھی۔
ممبئی
میں ان
کے کئی
فلیٹ سیل
کر دیے
گئے تھے
اور ان
پر بیس
لاکھ
روپے کا
جرمانہ
عائد کیا
گیا تھا
جس کے
خلاف
انہوں نے
اپیل کر
رکھی ہے۔
بگ
باس
ریالٹی
شوصرف
بالغوں
کے لیے
بھارتی
حکومت نے
دو
ریالٹی
ٹی وی شو
بگ باس
اور
راکھی کا
انصاف کے
پرائم
ٹائم پر
نشر کرنے
پر
پابندی
عائد کر
دی
ہے۔بھارتی
حکومت نے
نیوز
چینلوں
کو بھی
پابند
کیا ہے کہ
وہ ان
ریالٹی
پروگراموں
کی کوریج
کے دوران
اس
کےمخصوص
حصوں کو
نشر نہ
کریں۔

برطانوی
ٹیلی
ویژن
چینل فور
کے
پروگرام
بگ برادر
کی طرز پر
بننے
والے
بھارتی
ریالٹی
شو بگ باس
میں سابق
بے واچ
سٹار
پامیلا
اینڈرسن
اور
پاکستانی
اداکارہ
وینا ملک
شرکت کر
رہی ہیں۔
بھارتی
وزارت
اطلاعات
و نشریات
کے ایک
اہلکار
نے کہا ہے
کہ
پروگراموں
کو پرائم
ٹائم میں
نشر
کرنےکی
پابندی
کا فیصلہ
ان
پروگراموں
میں
بیہودہ
مناظر
اور
بیہودہ
زبان کے
بارے میں
لوگوں نے
شکایت کے
بعد کیا
گیا ہے۔
بھارتی
وزارت
اطلاعات
و نشریات
نے کہا ہے
کہ ان
پروگراموں
کو دن کے
پرائم
ٹائم پر
دکھانے
پر
پابندی
عائد کر
دی گئی ہے
اور اب یہ
صرف رات
گیارہ سے
صبح پانچ
بجے تک
دکھائے
جا سکیں
گے اور اس
پر واضح
طور پر
لکھا
ہوگا کہ
یہ
پروگرام
صرف
بالغوں
کے لیے
ہے۔
یہ
پابندی
اس وقت
عائد کی
گئی ہے جب
پامیلا
اینڈرسن
اس شو میں
داخل
ہوئیں۔
پامیلا
اینڈرسن
کی بگ باس
میں
شمولیت
کی وجہ سے
اس شو کی
مقبولیت
میں
اضافہ
ہوا ہے۔
دلی میں
بی بی سی
کی نامہ
نگار
ٹنکو رے
نے بتایا
ہے کہ
وزارتِ
اطلاعات
و نشریات
کے دفتر
میں
شکایات
کا ایک
انبار لگ
چکا ہے
اور
لوگوں نے
خصوصاً
بگ باس
میں وینا
ملک کے
تولیے کو
گرانے
اور
راکھی کا
انصاف کے
شو میں
بہیودہ
زبان کے
استعمال
پر
شکایات
کی ہیں۔
پروگرام
کے
پروڈیوسروں
نے
حکومتی
پابندی
سے متعلق
لاعملی
کا اظہار
کیا ہے۔
ان کا
کہنا ہے
انہیں اس
بارے میں
حکومت کی
جانب سے
انہیں
کوئی
ہدایات
نہیں ملی
ہیں۔
پامیلا
اینڈرسن
پہلی
مرتبہ جب
بگ باس
میں شرکت
کے لیے
پہنچیں
تو انہوں
نے سفید
ساڑھی
پہن رکھی
تھی اور
نمستے
کہا۔
انہوں نے
فرداً
فرداً
تمام
شرکاء سے
ہاتھ
ملایا۔
پامیلا
اینڈرسن
نےگھر
میں رہن
سہن کے
طریقوں
سے آگاہی
حاصل کی ۔
خود
کشی کے
لیے
اکسانے
پر مقدمہ
بھارت
میں
معروف
ٹیلی
ویژن شو
راکھی کا
انصاف
میں شامل
ہونے
والے ایک
شخص کی
خودکشی
کے لیے
آئٹم گرل
راکھی
ساونت پر
خودکشی
پر
اکسانے
کا مقدمہ
درج کیا
گیا ہے۔

ریاست
اتر
پردیش کے
پولیس
سربراہ
برج لال
نے
صحافیوں
کو بتایا
ہے کہ
مقدمہ
خود کشی
کرنے
والےنوجوان
لکشمن
اہروار
کی ماں
ساوتری
اہروار
نے
جھانسی
شہر کے
پریم نگر
تھانے
میں درج
کروایا
ہے۔
راکھی
ساونت کے
ساتھ
ساتھ دو
مقامی
صحافیوں
پر بھی
کیس درج
کیا گیا
ہے جو
لکشمن کو
راکھی
ساونت کے
شو میں
ممبئی
لےکر گئے
تھے۔
پولیس نے
اس
معاملے
میں بے
عزت کرنے
اور
خودکشی
کرنے کے
لیے
اکسانے
کا مقدمہ
درج کیا
ہے۔ اگر
یہ افراد
قصوروار
پائے گئے
تو انہیں
دس برس
قید کی
سزا ہو
سکتی ہے۔
لکمشن
اہروار
کی شادی
اس برس
فروری
میں
انیتا سے
ہوئی تھی
لیکن
میاں
بیوی کے
درمیان
تلخی کے
بعد
انیتا
میکے چلی
گئی تھی۔
راکھی کا
ٹی وی شو
آج کل بہت
مقبول ہے
ٹی وی شو
راکھی کے
انصاف
میں ایسے
ہی تمام
مسائل کے
حل کے لیے
متاثرہ
لوگوں سے
باتیں کی
جاتیں
اور
مسئلے کو
حل کرنے
کی کوشش
کی جاتی
ہے۔
لکمشن کو
اس شو میں
شامل
کرنے کے
لیے تین
افراد
ممبئی لے
گئے تھے
اور
پروگرام
تیرہ
ستمبر کو
ریکارڈ
کیا گیا۔
تیئس
اکتوبر
کو یہ
پروگرام
این ڈی ٹی
وی امیجن
چینل پر
نشر کیا
گیا تھا۔
پولیس
میں جو
شکایت
درج کی
گئی ہے اس
کے مطابق
پروگرام
کے دوران
راکھی
ساونت نے
لکمشن کے
ساتھ غیر
شائستہ
زبان
استعمال
کی،
انہیں
گالیاں
دی اور
نامرد
بھی کہا۔
اس طرح سب
کے سامنے
بے عزت
ہونے کے
سبب
لکشمن
نفسیاتی
طور پر
بیمار
ہوگیا
اور
زندگی سے
وہ مایوس
ہو گیا۔
ذہنی
تناؤ کے
سبب بدھ
کے روز
لکشمن کی
موت
ہوگئی
تھی۔
حالانکہ
مذکورہ
چینل کا
کہنا ہے
کہ لکشمن
کی موت
زیادہ
شراب
پینے سے
ہوئی ہے۔
مزید
کتابیں
لکھ سکتی
ہوں

شہرہ
آفاق
کتاب
ہیری
پوٹر کی
مصنفہ جے
کے رولنگ
نے کہا
ہےکہ وہ
ہیری
پوٹر
سیریز
پرمزید
کتابیں
لکھ سکتی
ہیں۔
رولنگ نے
مشہور
امریکی
ٹی وی شو
کی
میزبان
اوپرا
ونفری کو
بتایا کہ
ہیری
پوٹر کے
کردار
اُن کے
دماغ میں
ہیں اور
وہ اِس پر
متعدد
نئی
کتابیں
لکھ سکتی
ہیں۔
جے کے
رولنگ نے
سکاٹ
لینڈ میں
ایک
انٹرویو
میں کہا
میں یہ
نہیں
کہنا
چاہتی کہ
میں نہیں
لکھ
سکتی۔
انہوں نے
مزید کہا
کہ اُن کا
پہلا
ناول
شائع
ہونے سے
پہلے
انہیں
بہت سی
آفرز
ہوئیں
لیکن
انہوں نے
وہ آفرز
مسترد کر
دیں۔
ایک سوال
کے جواب
میں
انہوں نے
کہا میرا
ایجنٹ
مجھ سے
بہتر
جانتا
ہے، مجھے
نہیں
معلوم
تاہم یہ
بہت ہے،
بہت سے
لوگ یہ
نہیں
چاہتے،
متعدد
لوگوں نے
یہ کام
واپس کر
دیا۔
اُن کا
کہنا تھا
میں اس پر
یقین
کرتی ہوں
کہ میں نے
بہت اچھا
کام کیا
ہے اور
میں اپنے
کام سے
مطمئن
ہوں۔
جے کے
رولنگ نے
کہا کہ
اُن کے
لیے وہ
لمحہ بہت
پریشان
کن تھا جب
پبلشر نے
کہا وہ
اُن کے
کام میں
دلچسپی
نہیں
رکھتا۔
مصنفہ نے
یہ تسلیم
کیا اُن
کے تمام
بچوں نے
ہیری
پوٹر کی
کتابیں
نہیں
پڑھی
ہیں۔
جے کے
رولنگ کے
بقول
انہوں نے
اپنے سات
سالہ بچے
کو ہیری
پوٹر
سیریز کی
پہلی
کتاب پڑھ
کر سنائی
اور بہت
جلد میں
اُسے
دوسری
کتاب بھی
پڑھ کر
سناؤں
گی۔
انہوں نے
کہا کہ
اُنہیں
ڈر ہے کہ
اُن کے
بچے
دوسروں
کے گھروں
جا کر
ہیری
پوٹر کی
فلمیں
دیکھیں
گے۔
پاکستانی
فنکاروں
کی شمولیت
پر اعتراض


مہاراشٹر
کی
علاقائی
سیاسی
جماعت
شیوسینا
اور
مہاراشٹر
نو نرمان
سینا نے ٹی
وی ریالٹی
شو بگ باس
سیزن فور
میں
پاکستانی
فنکاروں
کی شمولیت
پر سخت
اعتراض
کیا ہے۔
اس اعتراض
کے بعد
پولیس نے
کلرز ٹی وی
چینل کے
دفتر میں
حفاطتی
انتظامات
سخت کر دیے
ہیں۔
کلرز ٹی وی
چینل پر
اتوار کی
شب بگ باس
فور شروع
ہوا۔ اس کی
افتتاحی
تقریب میں
چودہ
فنکاروں
کو دکھایا
گیا جو تین
ماہ تک بگ
باس فور کے
گھر میں
رہنے
والےہیں۔
اس شو میں
پاکستان
کے دو
فنکار
وینا ملک
اور علی
سلیم عرف
بیگم
نوازش علی
بھی شامل
ہیں۔ اس شو
کے میزبان
بالی وڈ
اداکار
سلمان خان
ہیں۔

ان دونوں
کی شمولیت
پر
شیوسینا
کے ترجمان
اخبار
سامنا میں
ایک
آرٹیکل
لکھا گیا
ہے جس کا
عنوان ہے
بگ باس گھر
میں
پاکستانی
گھس
بیٹھیے (
درانداز )۔
اس مضمون
میں لکھا
گیا ہے کہ
جب
پاکستان
ہمارے
فنکاروں
کو اپنے
ملک میں
آنے کی
اجازت
نہیں دیتا
ہے تو پھر
ہم ان کے
فنکاروں
کو اپنے
یہاں کیوں
بلاتے
ہیں؟
شیوسینا
لیڈر سنجے
راؤت نے اس
کے بعد
میڈیا کو
دیے گئے
ایک بیان
میں کہا کہ
کلرز کا
اپنے
پروگرام
میں
پاکستانی
فنکاروں
کو شامل
کرنا
شرمناک
ہے۔ وہ
ہمارے دیش
میں دہشت
پھیلنے
والوں کی
حمایت
کرتے ہیں
اور ہمارے
فلم والے
اور چینل
والے
انہیں
یہاں بلا
کر ان کا
سواگت
کرتے ہیں۔
انہوں نے
چینل کے
ذریعہ ان
فنکاروں
کو بلانے
کے عمل پر
کہا کہ
انہوں نے
دیش کی
پیٹھ میں
چھرا
گھونپا
ہے۔
شیوسینا
لیڈر سنجے
راؤت نے اس
کے بعد
میڈیا کو
دیے گئے
ایک بیان
میں کہا کہ
کلرز
کااپنے
پروگرام
میں
پاکستانی
فنکاروں
کو شامل
کرنا
شرمناک
ہے۔ ' وہ
ہمارے دیش
میں دہشت
پھیلنے
والوں کی
حمایت
کرتے ہیں
اور ہمارے
فلم والے
اور چینل
والے
انہیں
یہاں بلا
کر ان کا
سواگت
کرتے ہیں
راؤت نے
مزید کہا
کہ اگر آپ
کو
پاکستان
سے اتنا ہی
پیار ہے تو
آپ پھر
اجمل قصاب
اور افضل
گرو کو بھی
بلا
لیجئے۔
انہوں نے
کہا کہ وہ
سلمان خان
سے پوچھنا
چاہتے ہیں
کہ کیا
انہیں ڈر
نہیں
لگتا؟
اپنے اس
بیان کے
ساتھ ہی
انہوں نے
دھمکی دی
ہے کہ
دیکھیں یہ
پروگرام
تین مہینے
تک کیسے
چلتا ہے۔
شیوسینا
کی آواز
میں آواز
میں ملاتے
ہوئے
مہاراشٹر
نو نرمان
سینا کے
سربراہ
راج
ٹھاکرے نے
میڈیا کو
ایک بیان
دیا جس میں
انہوں نے
کہا کہ
ہمارے ملک
کی آبادی
ایک ارب سے
زیادہ ہے
اور کیا
ہمارے
یہاں
فنکاروں
کی کمی ہے
جو ہم
پاکستان
سے
فنکاروں
کو بلاتے
ہیں؟
پاکستانی
فنکاروں
کی مخالفت
پہلی
مرتبہ
نہیں ہوئی
ہے۔ اس سے
پہلے منسے
نے
پاکستانی
مزاحیہ
فنکار
شکیل
صدیقی کے
کامیڈی شو
میں
شمولیت پر
کافی
ہنگامہ
کیا تھا۔
منسے کے
ورکروں نے
باضابطہ
پروگرام
میں خلل
اندازی کی
تھی اور
مجبوراً
شکیل کو
وطن واپس
لوٹنا پڑا
تھا۔