۱
اقبال
بسملؔ
سانگھڑ
۔سندھ
موسم گرما
کی
تعطیلات
اور مسیحی
والدین کی
ذمہ داری
تعطیل یا
چھٹی کا
لفظ ہی
ایسا ہے کہ
جسے سنتے
ہی سبھی
چھوٹے بڑے
خوشی سے
اچھل پڑتے
ہیں۔ ہر
شخص یہ
سنجھتا ہے
کہ کولھو
کے بیل کی
مانند ایک
ہی ڈگر پر
کام کرتے
کرتے
اکتانے کے
بعد چھٹی
یا تعطیل
کے آنے سے
وہ اس ایک
ہی
طرز پر
تھکا دینے
والے کام
سے ہٹ کر
کوئی
دوسرا کام
کر سکے گا
جس سے اس
کے ذہن کو
سکون حاصل
ہو گا۔ اور
اس
کے بعد وہ
پھر تازہ
دم ہو کر
اپنے روز
مرہ کے
روائتی کا
مو کچھ
دنوں کے
لئے
بطریقِ
احسن
انجام
دینے کے
قابل ہو
سکے گا۔
اسی طرح
طالب
علموں کے
لئے رات دن
سکول جانے
،آنے اور
پڑھائی
کرنے سے جو
بد دلی
پیدا ہو
جاتی ہے
اس میں
تبدیلی
اور
خوشدلی
اور تازگی
لانے کے
لئے
تعطیلات
کا ہونا
لازم ہے۔
ویسے بھی
بلحاظِ
موسم سخت
گرمی سے
محفوظ
رہنے اور
گرمی کی
شدت کے
پڑھائی پر
اثر انداز
ہونے کے
باعث
تعطیلات
کا ہونا
ضروری
سمجھا
جاتا ہے۔
موسم گرما
کی طویل
تعطیلات
طلباء کے
لئے خوشی
کی نوید لے
کر آتی
ہیں۔
انہیں
طویل عرصے
سے ان
تعطیلات
کا
انتظار
ہوتا ہے۔
ان
تعطیلات
میں وہ
اپنے آپ کو
پڑھائی کے
بوجھ سے
آزاد پاتے
ہیں۔وہ
سوچتے ہیں
کہ ان دنوں
میں وہ
پڑھائی سے
بے نیاز ہو
کر کھیل
کود میں
اپنا وقت
بہتر طور
پر گذار
سکیں گے۔
اکثر
اوقات جب
چھوٹے بچے
سکول نہ
جانے کی ضد
کرتے ہیں
تو والدین
یہ کہہ کر
انہیں
سکول جانے
پر آمادہ
کرتے
ہیں کہ بس
بیٹا ! دو
چار دن کی
تو بات ہے
پھر تو
لمبی
چھٹیاں ہو
جائیں گی۔
بچہ
چھٹیوں کا
نام سن کر
خوش ہو
جاتا ہے
اور
دوبارہ
سکول جانے
کے لئے
تیار ہو
جاتا ہے۔
وہ خوش ہو
جاتا ہے کہ
چند روز
بعد اسے نہ
تو صبح
سویرے
جاگنا
پڑے گا اور
نہ ہی سکول
جانے کی
زحمت
گوارا
کرنی پڑے
گی۔ یہ بھی
دیکھا گیا
ہے کہ بڑے
لوگ بھی
چھٹی کے
روز
دیر تک
سونے کو
ترجیح
دیتے ہیں۔
گویا
تعطیل ہر
بشر کے لئے
خوشی کا
پیغام لے
کر آتی ہے۔
اور پھر
طلباء کے
لئے تو
یہ ایک
نعمتِ غیر
مترقبہ سے
کم نہیں
ہوتی۔ جس
میں وہ خود
کو ہر طرح
کے بوجھ سے
آزاد خیال
کرنے لگتے
ہیں۔
اس کے ساتھ
ہی والدین
کی ذمہ
داری میں
بھی قدرے
افاقہ ہو
جاتا ہے۔
کیونکہ
صبح سویرے
اٹھ کر
بچوں کو
سکول
کے لئے
تیار کرنا
اور وقت پر
سکول
پہنچانا
ان کے
معمولات
میں شامل
ہوتا ہے۔
اپنے ان
معمولات
سے وہ کچھ
عرصے
کے لئے بے
فکر ہو کر
اپنی روز
مرہ کی
مصروفیات
میں مگن ہو
جاتے ہیں۔
لیکن جہاں
تک بچوں کی
ذمہ داری
سے فراغت
پانے کی
بات ہے
وہیں ذی
فہم
والدین کے
لئے طویل
تعطیلات
مزید
پریشانی
کا باعث
بھی بن
جاتی ہیں۔
کیونکہ ان
تعطیلات
میں بچے
کھیل کود
میں مصروف
ہو کر اکثر
آموختہ کو
بھول جاتے
ہیں۔
پڑھائی سے
غافل ہو
جاتے ہیں۔
گلیوں اور
محلوں
میں نا
خواندہ
اور آوارہ
بچوں کے
ساتھ مل کر
نافرمان،
ضدی اور بد
اخلاق ہو
جاتے ہیں۔
اس طرح
بچوں کی
تعطیلات
میں
۲
میں
نگرانی
کرنا اور
ان کی
حرکات و
سکنات پر
کڑی نظر
رکھنا
والدین کی
ذمہ داری
میں مزید
اضافے کا
سبب بنتی
ہے۔
ورنہ ان کا
مستقبل
تباہ ہونے
کا اندیشہ
ہوتا ہے۔
اب سوال یہ
پیدا ہوتا
ہے کہ کتنے
والدین
اپنی اس
ذمہ داری
کو بہتر
طریقے سے
نبھا سکتے
ہیں۔ پہلا
مسئلہ تو
خواندگی
اور نا
خواندگی
کا ہے۔
تعلیم
یافتہ
والدین تو
اپنے بچوں
کی بہتر
تربیت
اور
نگرانی کر
سکتے ہیں
اور ان کی
صحیح
طریقے سے
راہنمائی
بھی کر
سکتے ہیں
لیکن نا
خواندہ
اور مزدور
پیشہ
والدین جو
سارا
سارا دن
قوتِ
لایموت کی
تلاش میں
گھر سے
باہر رہتے
ہیں وہ
بچوں کی
دیکھ بھال
، نگرانی
اور صحیح
راہنمائی
کیونکر کر
سکتے
ہیں۔
ویسے بھی
مسیحی قوم
میں علم کے
فقدان کے
ساتھ ساتھ
مفلسی ،
بیماری
اور بے
روزگاری
عروج پر
ہے۔ ان
حالات میں
والدین سے
ان کی ذمہ
داریوں کو
بطریق
احسن
نبھانے کی
توقع کرنا
عبث ہے۔
تاہم
ناممکن
نہیں۔ بعض
ناخواندہ
والدین
بھی اپنے
بچوں کی
تعلیم پر
بھر پور
توجہ دیتے
دیکھے گئے
ہیں۔
کیونکہ وہ
زمانے کے
سرد گرم سے
بخوبی
آگاہ ہوتے
ہیں
اور اپنے
بچوں کا
مستقبل
بنانا
چاہتے
ہیں۔ جہاں
تک والدین
کی بچے کی
زندگی کے
دیگر
پہلوؤں کے
بارے میں
ذمہ
داریوں
کا تعلق ہے
وہیں
اخلاقی
اور مذہبی
تعلیم کا
خیلا
رکھنے کی
بھی ضرورت
ہے۔
خصوصاٌ
مسیحی
والدین کی
ذمہ
داریاں
موسم گرما
کی
تعطیلات
میں اس
کلئے بھی
بڑھ جاتی
ہیں کہ ان
کے پاس
بچوں پر
ہمہ وقت
نظر رکھنے
کے لئے وقت
کم ہوتا
ہے۔
تاہم اگر
ہمارے
مذہبی
رہنما اس
سلسلے میں
مسیحی
والدین کے
ساتھ
تعاون
کریں تو اس
مسئلے پر
کافی حد تک
قابو پایا
جا سکتا
ہے۔ مثلاٌ
سنڈ ے سکول
کا آغاز،
شام کے وقت
چرچ
کمپونڈ
میں
کھیلوں کا
اہتمام،
بسا اوقات
ادبی
پروگراموں
اور
سیمینارز
کا انعقاد
کر کے موسم
گرما کی
طویل
تعطیلات
کو با معنی
اور مثبت
مقصد کے
لئے
استعمال
کیا جا
سکتا ہے۔
لیکن یہ
پروگرام
بھی
اسی صورت
میں
کامیاب ہو
سکتے ہیں
جب والدین
بچوں کو
باقاعدہ
اور مسلسل
ان
پروگراموں
میں شرکت
کا پابند
بنائیں۔
اس طرح بچے
درسی
تعلیم کے
ساتھ ساتھ
مذہبی
تعلیم اور
اخلاقیات
سے بھی
روشناس ہو
سکتے ہیں۔
والدین
بچوں کو
تعطیلات
کا مقصد
سمجھانے
کی کوشش
کریں اور
انہیں
بتائیں کہ
تعطیلات
محض وقت
ضائع کرنے
کا نام
نہیں بلکہ
ان
کو بہتر
طور پر
گذارنا
اور اس
دوران بہت
کچھ
سیکھنا ،
تعطیلات
کا اصل
مقصد ہے۔
انہیں یہ
بھی
بتائیں کہ
روزمرہ کے
معمولات
میں ہم
آہنگی
قائم
رکھنا ہی
کامیاب
زندگی کا
راز ہے۔ ان
تعطیلات
میں سکول
کی طرف سے
دیا گیا
کام بھی ہو
سکتا
ہے اور
کھیل کود
کے لئے وقت
بھی نکالا
جا سکتا
ہے۔موسم
گرما کی
تعطیلات
میں
والدین کی
ذمہ داری
یہ بھی ہے
کہ بچوں
کو حسبِ
استطاعت
قریبی
تاریخی
مقامات کی
سیر
کروائیں
جس سے ان
کی
معلومات
میں خوطر
خواہ
اضافہ ہو
سکتا ہے۔
اور انہیں
ذہنی
تفریح بھی
میسر
آسکتی ہے۔
اس کے
علاوہ
مطالعہ کا
شوق دلانے
کے لئے
درسی کتب
سے ہٹ کر
ادبی،
اخلاقی
،تاریخی
اور مذہبی
کتب بھی
مہیا کریں
۔باتوں ہی
باتوں میں
انہیں وقت
کی اہمیت
کا احساس
دلائیں۔
بچوں کو
اخلاقیات
کا درس
دینے کے
لئے خود
گھر پر
موجودگی
کے دوران
اخلاقی
کردار و
گفتار کا
مظاہرہ
کریں۔ رات
سونے سے
پہلے ان کے
ساتھ مل کر
۳
کے ساتھ مل
کر دعا
کریں۔
سونے سے
پہلے
انہیں
بائبل
مقدس سے
کہانیا ں
سنائیں۔
بچوں کے
ساتھ
ہمیشہ
دوستانہ
ماحول میں
بات کریں۔
چھوٹے
موٹے نیکی
کے کام
کرنے کی
ترغیب
دیں۔ اس
طرح مسیحی
والدین
اپنے
بچوں میں
مسیحی
ایمان کو
مضبوط کر
سکتے ہیں۔
گویا
مسیحی
والدین کے
پاس
تعطیلات
کا یہ وقت
ایک سنہری
موقع ہے جس
مین وہ
اپنے بچوں
کی پڑھائی
میں مدد
کرنے
کے ساتھ
ساتھ
،مذہبی
اور ذہنی
نشو و نما
بہتر
طریقے سے
انجام دے
سکتے ہیں
اور بچوں
کے ساتھ مل
کر
تعطیلات
کا یہ
دورانیہ
مثبت اور
مفید
مقاصد کو
پورا کرنے
میں گزار
سکتے ہیں۔
اقبال
بسملؔ ۔
سانگھڑ۔سندھ