
خواب
کی کشتی پر
(
ماہیے)
جیم فے
غوری
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جملہ حقوق
بحق مصنف
محفوظ
نام کتاب:
خواب کی
کشتی پر
مصنف: جیم
فے غوری
اشاعت:
طبع اول.
سرورق.
ناشر:
طابع
قیمت:
تعداد:
اٹلی میں
ملنے کا
پتا.
Via S.Martino 5, 43036-Fidenza(PR) ITALY.
Email : jeemghauri yahoo.com
پاکستان
میں ملنے
کا پتا.
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
سناٹے میں
رہتے ہیں
خواب کی
کشتی پر
ہم نیند
میں بہتے
ہیں
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
انتساب
سٹیلا
تمثیل
تخلیق
جینفر
اور
جوناتھن
کے نام یہ
کتاب کرتا
ہوں.جو میر
ے بدن کا
حصہ ہیں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
راوی کی
روانی میں
کشتی ڈول
گئی
بِن جل کی
کہانی میں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
فہرست
....................................................
جیم
فے غوری کے
ماہیے
جیم فے
غوری ایک
طویل عرصہ
سے اٹلی
میں مقیم
ہیں۔پاکستان
میں تھے تو
وہاں سے
ایک
ماہنامہ
نکالتے
تھے۔’’تلاش
‘‘ کے نام سے
چھپنے
والے اس
رسالہ میں
کچھ
ادبی،کچھ
سماجی اور
کچھ
انسانی
حقوق کے
حوالے سے
تحریریں
شامل ہوا
کرتی
تھیں۔یہ
رسالہ اب
سہ ماہی ہو
کر اٹلی سے
نکل رہا
ہے۔ اسی کی
مناسبت سے
جیم فے
غوری نے
ایک ویب
سائٹ بھی
بنا رکھی
ہے۔
اس میں
ادبی،سماجی
اور
انسانی
حقوق کے
حوالے سے
خبریں،اطلاعات
اور دوسرا
مواد
چھپتا
رہتا
ہے۔ایک
رسالہ اور
ایک ویب
سائٹ
چلانے کے
ساتھ جیم
فے غوری نے
ادب کا
تخلیقی
عمل بھی
جاری رکھا
ہوا ہے۔لگ
بھگ تیس
سال پہلے
ان کے
افسانے
روزنامہ
امروز
لاہور کے
ادبی صفحہ
پر چھپا
کرتے
تھے۔چند
برس پہلے
ان کا شعری
مجموعہ
بھی منظرِ
عام پر آیا
تھا۔میرا
ان سے پہلا
تعارف ان
کے شعری
مجموعہ کے
ذریعے
ہوا۔اس
میں ان کے
چند ماہیے
بھی شامل
تھے جو
تینوں
مساوی
الوزن
مصرعوں پر
مشتمل
تھے۔ظاہر
ہے مجھے
ایک بار تو
انہیں
بتانا تھا
کہ ماہیے
کا پنجابی
لوک لَے
والا وزن
کیا ہے؟
جب میں نے
ان سے اس
سلسلہ میں
بات کی تو
انہوں نے
بڑی خوشی
اور بشاشت
کے ساتھ
کہا کہ
مجھے اس
بارے
معلوم ہوا
تھااور
میں اب
اپنے
مطبوعہ
ماہیوں کو
بھی درست
وزن میں
کرتا ہوں
اور آئندہ
کے لیے آپ
کے بیان
کردہ وزن
ہی کو
ملحوظ
رکھوں
گا۔ان کے
اس اندازِ
گفتگو اور
طرزِ عمل
سے خوشی
ہوئی۔جیم
فے غوری نے
ماہیے کی
پنجابی
لَے کو
اختیار
کرتے ہوئے
ماہیے
کہنے شروع
کیے۔اور
اب جب کہ
ان کا نیا
شعری
مجموعہ
چھپنے جا
رہا ہے تو
اس میں ان
کی دوسری
شاعری کے
ساتھ ان کے
کافی سارے
ماہیے بھی
شامل
ہیں۔ان کی
باقی
شاعری
اپنی
جگہ۔۔مجھے
یہاں ان کی
ماہیا
نگاری کے
حوالے سے
ہی کچھ
کہنا ہے۔
اردو
شاعری میں
مسیحا اور
مسیحائی
کا
استعارہ
اپنے وسیع
تر مفہوم
میں اتنا
مستحکم
ہوچکا ہے
کہ
اگر اس کے
حوالے جمع
کرنے شروع
کیے تو ایک
ضخیم کتاب
تیار ہو
سکتی
ہے۔میری
تخلیقات
میں جہاں
کہیں کہیں
حضرت مسیح
علیہ
السلام کے
فرمودات
سے فیض
حاصل کیا
گیا ہے
وہیں
بائبل کی
دوسری کتب
سے بھی
استفادہ
کیا گیا
ہے۔پیدائش،حزقی
ایل،دانیال،مزامیرکے
بعض حوالے
یا اشارے
تو مجھے
اسی وقت
ذہن میں آ
گئے ہیں جو
میری
تحریروں
میں صراحت
کے ساتھ
موجود
ہیں۔
گویا میں
نے جہاں
قرآن
شریف،احادیث،صوفیانہ
روایات،بدھ
کی
تعلیمات
،رامائن
اور ویدوں
وغیرہ سے
استفادہ
کیا
ہے،وہیں
عہد نامہ
قدیم اور
عہد نامہ
جدید سے
بھی
استفادہ
کیا ہے۔
جیم فے
غوری کے
ہاں عہد
نامہ قدیم
کی چھاپ تو
ہے لیکن
عہد نامہ
جدید کے
اثرات
زیادہ
نمایاں
ہیں۔
رب
الارباب
خدا کہنی
ہیں
مناجاتیں
کیوں اس
دنیا میں
کرن کے
کاغذ پر
ہر شام کا
رنگ جدا
ہوں ختم
ملاقاتیں
پھولوں کا
مہینہ ہے
تو ظلم
مٹانے آ
ہجر کی
سُولی پر
خاک پہ
بکھرے
ہوئے
رکھا ہوا
سینہ ہے
پھولوں کو
اُٹھانے آ
اک قلعہ
بنانا ہے
آنے کی
بشارت دے
پتھر رد جو
ہوا ہجر کے
لمحوں کو
کونے میں
لگانا ہے
سہنے کی
ہمت دے
پہلے چار
ماہیوں
میں بائبل
کی روحانی
فضا موجود
ہے لیکن
پانچواں
ماہیا تو
حضرت مسیح
علیہ
السلام کے
اس فرمان
پر مشتمل
ہو گیا ہے۔’’جسے
معماروں
نے رد کیا
وہی پتھر
کونے کا
سرا ہو گیا‘‘
میں نے اس
فرمانِ
مقدس کو
اپنے
افسانوں
کے ایک
مجموعہ
میں
باقاعدہ
ایک کونے
میں سجا کر
پیش کیا
تھا،شاید
اسی لیے
مجھے اس
فرمان کو
ماہیا کے
روپ میں
دیکھ کر
خوشی ہو
رہی ہے۔
پاکستان
میں مذہبی
دہشت
گردی،مذہبی
نفرت
انگیزی کے
نتیجہ میں
انسانی
حقوق کی جو
سنگین
خلاف ورزی
ابنائے
وطن کے
ساتھ روا
رکھی جاتی
ہے ،وہ
کوئی ڈھکی
چھپی بات
نہیں
ہے۔اس
انسانیت
سوز نفرت
کا شکار
ہونے والے
اہلِ وطن
پھر مجبور
ہو کر وطن
سے ہجرت
کرتے ہیں
۔بیرون
ملک آکر ان
سب کو
مناسب
تحفظ تو مل
جاتا ہے
لیکن اپنی
دھرتی سے
وابستگی
اور محبت
ان کے دلوں
میں کسک
پیدا کرتی
رہتی ہے
۔یہ سارے
تجربات
جیم فے
غوری کے
ماہیوں
میں یوں
اپنا
اظہار
کرتے ہیں۔
گُل رنگ
سہانے ہیں
جذبوں کے
ترانے ہیں
پھر سے
تازہ ہوئے
دیس کو
دیکھے
ہوئے
جو زخم
پرانے ہیں
اب بیتے
زمانے ہیں
جب دیس کی
یاد آئی
طعنوں
بھرے
انگارے
رو کے سو
گئے ہیں
قوم کے،
سینے پر
یہ کیسی
سزا پائی
چلتے ہیں
دو دھارے
مجھے رب سے
کہنا ہے
دیس میں
اپنے کیوں
اک خوف سا
رہنا ہے
اس تخصیص
سے قطع نظر
کرتے ہوئے
اب جیم فے
غوری کے
چند ماہیے
ان کے
عمومی
انداز کے
طور پر
دیکھیں۔
سناٹے میں
رہتے ہیں
تنہا سی
بستی ہے
نقطہ تھا
کہ قطرہ
تھا
خواب کی
کشتی پر
دستِ فلک
پہ کوئی
حرف کے
جنگل میں
ہم نیند
میں بہتے
ہیں روشن
سی ہستی ہے
شاخوں پر
بکھرا تھا
دیکھا اک
تارا ہے ہر
زخم کو بھر
دے گا
یادوں کے
دوار کھڑے
صبح کا
بھولا ہوا
ماہی جب
لَوٹا ہجر
کے بستر پر
قسمت کا
مارا ہے
مجھے زندہ
کر دے گا
دو خشک
گلاب پڑے
دل توڑ کے
مت جانا
یوں ہوتے
رہے مدغم
قصہ ہی
تمام کیا
رب کا گھر
ہے یہ تم
جو ہوا ہو
تو تیری
محبت میں
یوں چھوڑ
کے مت جانا
شعلے کی
طرح ہیں ہم
دل تیرے
نام کیا
لو آئی ہے
تنہائی آؤ
ہم پیار
کریں
زرد
دوپہروں
میں منکر
دنیا میں
دکھ نے لی
انگڑائی
رب کا
اقرار
کریں
جیم فے
غوری جس
فراخدلی
کے ساتھ
ماہیا
نگاری کی
طرف متوجہ
ہوئے
ہیں،اس پر
میں انہیں
ماہیا کی
دنیا میں
خوش
آمدیدکہتا
ہوں۔اپنی
فضا اور
اپنے
موضوعات
کے اعتبار
سے جیم فے
غوری کے
ماہیوں کو
اردو
ماہیے میں
ایک نیا
ذائقہ کہا
جا سکتا
ہے۔
میں ان کی
ادبی و
تخلیقی
کامیابیوں
کے لیے دعا
گو ہوں!
حیدر
قریشی(جرمنی
سے)
*************************************************************
یادوں
میں صدا
دینا
ڈولتی
کشتی کو
اب پار
لگا دینا
ہر زخم کو
بھر دے گا
ماہی جب
لَوٹا
مجھے
زندہ کر
دے گا
پھولوں
کو کھلنا
ہے
روکے گی
دنیا
پر ہم کو
ملنا ہے
باغوں
میں بہار
آئی
آجا
پردیسی
میں سب
کچھ ہار
آئی
ہم لوگ
ہیں
دیوانے
اپنی
دنیا کو
تم
جانو،خدا
جانے
ہم لوٹ کے
آئیں گے
سوکھی
شاخوں
میں
نئے پھول
کھلائیں
گے
ہم عہدِ
وفا کرتے
ساتھ اگر
رہتے
دن رات
دعا کرتے
خط تیرا
جلا ڈالا
زخمِ
محبت کو
اک بھول
بنا ڈالا
اک وعدہ
کرنا ہے
ساتھ ترے
جینا
اور ساتھ
ہی مرنا
ہے
آؤ ہم
پیار
کریں
منکر
لوگوں
میں
رب کا
اقرار
کریں
میری ہے
حیات قلم
خون کی
سُرخی سے
لکھتی ہے
نجات قلم
حرفوں کی
حفاظت کر
شمع جلا
کر تو
محفل کی
نظامت کر
یادوں کے
دوار
کھڑے
ہجر کے
بستر پر
دو خشک
گلاب پڑے
ہاتھوں
میں تھام
قلم
انٹرنیٹ
بن کر
ہے سامنے
جامِ جم
وہ ایک
پری لڑکی
شام سے
پہلے ہی
کھوٹی
تھی،کھری
لڑکی
دجلہ کا
پانی لگے
سُرخ
چناب ہوا
یہ بات
پرانی
لگے
یوں تیرا
خفا ہونا
اچھا لگا
ہے ترا
پل بھر
میں خدا
ہونا
راوی کی
روانی
میں
کشتی ڈول
گئی
بِن جل کی
کہانی
میں
نقطہ تھا
کہ قطرہ
تھا
حرف کے
جنگل میں
شاخوں پر
بکھرا
تھا
تو پھر سے
سکندر بن
عشق کی
مستی میں
سوچوں کا
قلندر بن
آنے کی
بشارت دے
ہجر کے
لمحوں کو
سہنے کی
ہمت دے
ظلمت کی
کہانی ہے
خلقِ خدا
کو سنا
لفظوں کی
زبانی ہے
اک خواب
اُگانا
ہے
سہمے
پرندوں
کو
اک شخص
ملانا ہے
ہر شام
عذاب آئے
اجڑ گئی
بستی
تب سُرخ
گلاب آئے
ہونے نہ
ہونے سے
ہم
درد بھری
رُت میں
کس کس کا
کرتے غم
افلاک کا
تارہ ہے
صبح کے
ماتھے پر
چلنے کا
اشارہ ہے
یوں تم سے
دور ہوئے
وطن سے بے
وطنی
پر ہم
مجبور
ہوئے
یوں خود
کو سجا
لینا
شاخِ بدن
پر تم
اک پھول
کھلا
لینا
جو دکھ
سہہ جاتے
ہیں
یار کے
پہلو میں
وہ مسند
پاتے ہیں
جب پھول
سے کھلتے
ہیں
مے خانے
جا کر
اپنوں سے
ملتے ہیں
دیکھا ہے
ستاروں
میں
اسم لکھا
تیرا
الفت کے
نظاروں
میں
کچھ ہے ہو
جانے کو
شام کا
سایہ جو
ہے صحن
میں آنے
کو
ہم ہاتھ
ہلاتے
ہوئے
رودئیے
چپکے سے
اُس شہر
سے جاتے
ہوئے
غالبؔ کا
خیال لگا
وصل کا
موسم بھی
شبِ غم کی
مثال لگا
ہجرت کا
بنا موسم
شہر کی
گلیوں
میں
سولی کا
سجا موسم
دریا کو
تو چلنا
ہے
اپنی نفی
کر کے
ساگر میں
ملنا ہے
تو ظلم
مٹانے آ
خاک پہ
بکھرے
ہوئے
پھولوں
کو
اُٹھانے
آ
اک قلعہ
بنانا ہے
پتھر رد
جو ہوا
کونے میں
لگانا ہے
آکاش پہ آ
چندا
مکھڑا
مرے دل کے
دریا میں
دکھا
چندا
آنکھوں
میں اُگا
سپنا
رات کی
لَو نے
بھی
دھرتی کا
گیت سنا
کیوں بم
برساتے
ہو
امن کی
دنیا میں
فتنوں کو
جگاتے ہو
دریا تو
پرانا ہے
رات کو
چندا سے
رشتہ بھی
نبھانا
ہے
پانی پر
بہتا ہوا
دور نکل
آیا
میں ظلم
کو سہتا
ہوا
آئینہ
پاس رکھو
رات ہے،
آنکھوں
میں
خوابوں
کی آس
رکھو
یوں ہوتے
رہے مدغم
تم جو ہوا
ہو تو
شعلے کی
طرح ہیں
ہم
روشن سے
سائے ہیں
سفر میں
ماہی نے
کچھ دیپ
جلائے
ہیں
جب آئے ہو
اس گھر
میں
جو دل میں
ہے وہ
پڑھ لو
چشمِ تر
میں
اب لَوٹ
چلیں گھر
کو
مدت بیت
گئی
اِس در پہ
جھکے سر
کو
اس شہر کے
لوگ بھلے
ابرِ غم
کی رُتیں
اورعشق
کے روگ
بھلے
میلے میں
کھو
جائیں
پیار
محبت کی
کچھ
یادیں بو
جائیں
قصہ ہی
تمام کیا
تیری
محبت میں
دل تیرے
نام کیا
کب پیار
میں سوتے
تھے
راتیں
جاگ کے ہم
چھپ چھپ
کے روتے
تھے
اس ظالم
دنیا میں
روز ہی
مرتے ہیں
جینے کی
تمنا میں
اک دیپ
جلا
رکھنا
اپنی
آنکھوں
میں
اک خواب
سجا
رکھنا
گُل رنگ
سہانے
ہیں
پھر سے
تازہ
ہوئے
جوزخم
پرانے
ہیں
جذبو ں کے
ترانے
ہیں
دیس کو
دیکھے
ہوئے
اب بیتے
زمانے
ہیں
جب دیس کی
یاد آئی
رو کے سو
گئے ہیں
یہ کیسی
سزا پائی
سناٹے
میں رہتے
ہیں
خواب کی
کشتی پر
ہم نیند
میں بہتے
ہیں
طعنوں
بھرے
انگارے
قوم کے
سینے پر
چلتے ہیں
دو دھارے
مجھے رب
سے کہنا
ہے
دیس میں
اپنے
کیوں
اک خوف سا
رہنا ہے
اک درد
میں زندہ
ہے
شاخ
زیتون
لئے
غمگین
پرندہ ہے
اک کام
نہیں
کرتا
میرے نام
کبھی
کوئی شام
نہیں
کرتا
دو نین
کنول
جیسے
جھیل کے
پانی پر
لکھی ہو
غزل جیسے
لو آئی ہے
تنہائی
زرد
دوپہروں
میں
دکھ نے لی
انگڑائی
کب جانے
سحر ہو گی
رات
جدائی
میں
ایسے نہ
بسر ہو گی
پردیسی
کو آنا ہے
رسمِ
محبت کو
آخر تو
نبھانا
ہے
جب خبر یہ
آتی ہے
لوٹ کے
آنا نہیں
توجان ہی
جاتی ہے
قربت
جوپائی
ہے
روح مہک
اٹھی
جب سے تُو
آئی ہے
تنہا سی
بستی ہے
دستِ فلک
پہ چلو
روشن سی
ہستی ہے
پھولوں
کا مہینہ
ہے
ہجر کی
سُولی پر
رکھا ہوا
سینہ ہے
دیکھا اک
تارا ہے
صبح کا
بھولا
ہوا
قسمت کا
مارا ہے
دل توڑ کے
مت جانا
رب کا گھر
ہے یہ
یوں چھوڑ
کے مت
جانا
برفانی
جاڑوں سے
دیکھ کے
چل گوری
من پھسلے
پہاڑوں
سے
آ نکھوں
کا اشارا
ہے
ہاتھ میں
گنگن ہیں
بڑی دور
کنارا ہے
خوابوں
میں نہیں
بہتا
رات کے
تنکے سے
میں ڈر کے
نہیں
لپٹا
رب
الارباب
خدا
کیوں اس
دنیا میں
ہر شام کا
رنگ جدا
کہنی ہیں
مناجاتیں
کرن کے
کاغذ پہ
ہوں ختم
ملاقاتیں
پھولوں
کی حرارت
تھی
یار کے
پہلو میں
کچھ ایسی
محبت تھی
دل کو
سمجھاتے
رہے
پیار
نہیں
کرنا
پر خود ہی
نبھاتے
رہے
گُل رنگ
سے کھلتے
ہیں
دریا
کنارے پر
اس طرح سے
ملتے ہیں
جب ملنے
وہ آتی ہے
میرے دل
میں کہیں
اک گیت وہ
گاتی ہے
نزدیک
سویرا ہے
تھام لے
ہاتھ مرا
سب کچھ اب
تیرا ہے
تُو چاند
سامکھڑا
ہے
دل کے جو
پار ہوا
شیشے کا
ٹکڑا ہے
جب تارے
سو جائیں
خواب کی
طرح ہم
سایوں
میں کھو
جائیں
سوچوں کا
دیا
رکھنا
رات کے
آنگن میں
اک پیڑ
ہرا
رکھنا
اب پیار
ملاوٹ ہے
نفرت دل
میں چھپی
ظاہر کی
سجاوٹ ہے
تم عشق سے
ڈرتے ہو
ازل سے
دنیا کی
باتیں
بھی کرتے
ہو
تارے جو
چمکتے
ہیں
ڈوب کے
سارا دن
راتوں
کونکلتے
ہیں
بن موت
مرے ہوں
گے
عشق میں
جو ڈوبے
کھوٹے
بھی کھرے
ہوں گے
حرفوں سے
عبارت ہے
عشق
سمندر
میں
تیرا نام
سلامت ہے
مل کر بھی
ملتا
نہیں
ساتھ
میرے وہ
تو
رستوں پہ
چلتا
نہیں
بالوں
میں
چاندی
لگے
وقت کے
حاکم کی
بے حس سی
باندی
لگے
تُو دھوپ
ہے سردی
کی
جذب کروں
میں تجھے
اس بدن کی
وردی میں
مقتل پر
نکلا دن
لہو میں
ڈوبا ہوا
اس شہر کا
پہلا دن
جب ہاتھ
بلند ہوا
درد کے
ماروں کا
ہر سفر
کمند ہوا
جب سامنے
آتی ہے
عشق کی
مستی میں
گُن ماہی
کے گاتی
ہے
بانہوں
میں آرام
ملے
وصلِ گُل
میں جب
مے پینے
کو عام
ملے
ہاتھوں
میں
ہتھکڑی
ہے
مری
زندگی اب
اس نسل کی
چھڑی ہے
کہنے میں
ٹوک نہیں
قول پہ ڈٹ
جاہیں
اس دنیا
میں لوگ
نہیں
ساون کے
دنوں میں
تم
آنکھ سے
پانی کے
گرنے کا
کرتے ہو
غم
چل پیار
کے دیپ
جلا
خاک پہ
بکھرؤں
کو
سینے سے
اٹھا کے
لگا
ستمِ غم
ہوتے رہے
وصل کے
موسم میں
بے خبر ہی
سوتے رہے
کاغذ پہ
بکھرا
ہوا
درد جو
سمٹا ہے
شبنم میں
نکھرا
ہوا
اٹھوگھر
کو جاتے
ہیں
حالِ دل
بے قابو
بچھڑوں
کو سناتے
ہیں
آنکھوں
کو ہیں نم
کرتے
یاد میں
تیری ہم
دن رات کو
غم کرتے
فکروں کے
مارے
ہوئے
دامن
خالی لئے
زندگی سے
ہارے
ہوئے
شہروں کی
متاعِ
فکر
ویراں
رستوں پر
دیکھے گی
خاکِ جگر
احساسِ
نارسائی
شہر میں
ہوتی ہے
میری جگ
ہنسائی
رنگوں
میں
گھولتا
ہے
شہر کی
دیوار پہ
لکھا ہوا
بولتا ہے
عادت ہے
عذاب
سہنا
لہو میں
جوش نہیں
پھر اُس
کو کیا
کہنا
لمحے کا
خواب سا
ہے
فخر سے
دیکھوں
اسے
لگتا
مہتاب سا
ہے
سچائی
سدا
لکھنا
پاس ہے شہ
رگ کے
اُس کو ہی
خُدا
لکھنا
اُس نام
میں ندرت
ہے
دنگ رہ
جاتا ہوں
ہر کام
میں قدرت
ہے
ہم خوف
میں جیتے
ہیں
دیس کی
گلیوں
میں
بن موت ہی
مرتے ہیں
نم ریت ہے
صحرا میں
جلتے
ہوئے دیے
بہتے ہیں
دریا میں
کھیتوں
پر اُوس
گری
جاگ
اُٹھی
قسمت
ہر شاخ
ہوئی ہے
ہری
وہ تجھ کو
پکارے ہے
فصلِ گل
کی طرح
ہرچیز
نکھارے
ہے
باغوں
میں صنم
چلتے
ظلم کے
موسم میں
آشتی کے
پھول
کھلتے
مٹی سے
سنگ نکلے
داغ تھے
دل پر جو
اُن کے ہم
رنگ نکلے
تنکے کے
سہارے پر
گہرے
سمندر سے
آئے ہیں
کنارے پر
نہ سلام
صنم سے
رہا
بچھڑے ہم
کچھ یوں
نہ کلام
صنم سے
رہا
ملتے ہی
دعا کرنا
درد کے
لمحوں کو
مجھ سے نہ
جدُا
کرنا
مشکل یہ
ہماری ہے
عمر کا
ایک حصہ
جھولی
میں
تمہاری
ہے
شیشے پر
داغ پڑے
خون کے
آنسو سے
جل سبھی
چراغ پڑے
تم پاس
اگر ہوتے
جگر نشیں
ہوتے
انمول
گہر ہوتے
شعموں کو
بجھا
بیٹھے
عشق کی
یادوں کا
اک روگ
لگا
بیٹھے
ہم قول
نبھائیں
گے
شہرِ
صلیب میں
ہم
نئی رسم
چلائیں
گے
اک پیار
کی بستی
ہے
جگر تو
چھلنی ہے
پر صورت
ہنستی ہے
لگتا وہ ا
پنا ہے
جام میں
دیکھ لیا
شبِ وصل
کا سپنا
ہے
یوں لہر
پہ بہتا
رہا
موت کے
خوف سے
میں
بادباں
سے لپٹا
رہا
دھرتی پر
نکلا دن
رات سے
بچھڑ گیا
اقرار کا
پہلا دن
دریا میں
چاند
دکھا
ہجر کی
راتوں
میں
سپنوں کے
دیپ جلا
راہوں
میں خار
ملیں
خوف کے
عالم میں
ہم سُوئے
دار چلیں
چراغوں
کو جلا
رکھنا
آس کی
شاہراہ
پہ
ارمان
بجھا
رکھنا
بے وطن
بھی ہوتے
ہیں
خون کے
قطرے بھی
پردیس
میں
بُوتے
ہیں
ہر لفظ پہ
اُوس پڑی
قلم کی
حرمت پر
اس شہر
میں شام
پڑی
جب سخن
ہوا ہے
بلند
دیکھیں
کہاں جا
کر
ٹوٹے گی
یہ آج
کمند
سنائے گا
تُوکس کس
کو
شہر کے
افسانے
اک درد سے
جس جس کو
تارا جو
پکارے ہے
صبح کی
آہٹ پر
اک
سحراُتارے
ہے
پرندے
بھی
سیانے
ہیں
پیڑ پہ
رہنے کو
کچھ گھر
بھی
بنانے
ہیں
سنبھلی
نہ طبیعت
ہے
ہجر کے
مرض لگے
اک عشق سے
نسبت ہے
زنداں کے
در خاموش
ظلم کی
نگری میں
ہیں سارے
گھر
خاموش
اس بار
ہیں
آنکھیں
نم
شہر کے
لوگوں پر
تیری
رحمت
کیوں ہے
کم
اپنوں کے
گہرے وار
شہر دل پہ
لگے
ہم ہوئے
بہت ہی
خوار
تم موت سے
ڈرتے ہو
کیسے
سپاہی ہو
بن خنجر
لڑتے ہو
جس شخص سے
ڈرتا تھا
صبح کی
طرح وہ
آنگن میں
اُترتا
تھا
دریا سے
گزرنا ہے
ابر کے
پانی کو
آنکھوں
سے
برسانا
ہے
اُس صبح
کو آنا ہے
نکل کے
روح کو جب
اس بدن سے
جانا ہے
لہو میں
مہکتا ہے
عشق کی
گرمی سے
وہ روح
میں
اُترتا
ہے
اس جام
میں چاہت
ہے
ساتھ اگر
پی لیں
تو عین
عبادت ہے
کیوں
دُور
ہوئے
ساجن
بھر
اسَکھیوں
نے ہے
طعنوں سے
میرا
دامن
سائے ہیں
بہت سارے
ریت کے
گھر سب نے
بنائے
ہیں بہت
سارے
اشکوں کو
چھپاتے
ہیں
داغ محبت
کے
تم کو ہی
دکھاتے
ہیں
ہم فقط
دعا کرتے
ہجر کے
زخموں کی
اکسیر
دوا کرتے
تم شکوہ
بجا کرتے
مٹا کر
ہستی کو
ہم وعدہ
وفا کرتے
تمہاری
تو عادت
ہے
جان نکال
کے بھی
کہتے ہو
شرارت ہے
سنہرے
ہیں بال
ترے
خوابوں
میں بھی
اب
ملتے ہیں
وصال ترے
بیٹھا
ہوں
ندامت
میں
انصاف کی
آس لئے
ملتے ہیں
قیامت
میں
دن رات
یوں روتے
ہیں
پھول کے
پہلو میں
کئی خار
بھی ہوتے
ہیں
ہم بیج جو
بُوتے
ہیں
فصل کے
موسم میں
وہ کاٹ کے
سوتے ہیں
کوئی
پھول
نہیں
کھلتا
خوف ہے ہر
جانب
اک پتہ
نہیں
ہلتا
تم ساتھ
رہے جب تک
جام نہ
ہوں خالی
تھم جائے
سما تب تک
اک شہر
بساتے
ہیں
امن کی
مٹی پر
اک گھر
بھی
بناتے
ہیں
نفرت کے
زمانے
میں
اُجڑ گئے
سب گھر
تعصب کے
بنانے
میں
حرفوں کو
یاد
رکھنا
قلم کی
طاقت سے
اس گھر کو
شاد
رکھنا
راوی میں
پانی ہے
دیا جلا
تے ہیں
جذبوں کی
رانی ہے
سر سبز
نگر ہو گا
صنم ہے
اُس دیس
جس میں نہ
جبر ہو گا
وہ شہر
عظیم
ہوئے
لوگ جہاں
چند ہی
خُدا میں
حلیم
ہوئے
خواب میں
گوری رہے
جام ِ صبا
کے ساتھ
ریشم کی
ڈوری رہے
مانگی ہے
دعا رب سے
قلم کی
فصلِ گل
کھیتوں
میں اُگا
یا رب
پردیس سے
یار آیا
چین کی
لہر آئی
اِس من کو
قرار آیا
دُوری
بھی
ضروری
تھی
وقت کے
ساتھ چلا
میری
مجبوری
تھی
ہر دور
میں ایسا
تھا
دار پہ
لٹک گیا
وہ میرے
جیسا تھا
وہ رات
اکیلی
تھی
کوئی
تارا
نہیں
اور نہ ہی
چنبیلی
تھی
دھرتی کا
نمک ہو گا
اچھے
ذائقوں
کی
آنکھوں
میں چمک
ہوگا
وہ ایک
ستارا ہے
فلک پہ
رہتا ہے
پھر بھی
وہ ہمارا
ہے
صبح کی
بشارت دے
رات کی
پھیلی
ہوئی
آنکھوں
کو بصارت
دے
مٹھی میں
ہوا
رکھنا
دیس کے
آنگن میں
اک پیڑ
اُگا
رکھنا
ہاتھوں
میں کتاب
رکھو
دُور
کہیں جا
کر
صدیوں کے
عذاب
رکھو
دے مجھ کو
غم کچھ
اور
پیار کی
باتوں
میں
کہتے ہو
تم کچھ
اور
مٹھی میں
ستارے
ہیں
روزِ
قیامت تک
ہم ساتھ
تمہارے
ہیں
باتوں
میں نہیں
گرمی
سوچ رہے
ہو کیا
اس برس
نہیں
نرمی
جب چاک
جگر بھی
سیئے
رات کے
ماتھے پر
جل اٹھے
ہزار دیے
پُر شور
ہوا لوگو
شہر رہے
زندہ
مانگی ہے
دعا لوگو
اک دیا نہ
جلتا ہے
ظلم کے
شہر وں
میں
غم خوار
نہ ملتا
ہے
بستر پر
جھمکا
گرا
صبح سے
پہلے ہی
گردن میں
طوق پڑا
گلشن میں
گُل مہکے
شہر کی
گلیوں
میں
دل زور سے
ہیں
دھڑکے
یہ کیسی
ہوا ہے
چلی
ہجر کے
موسم میں
اُجڑی سی
بہار ملی
آنکھوں
کی چمک بن
کر
لوٹ آیا
ہے صنم
پھولوں
کی مہک بن
کر
چلتی ہے
ہوا ایسی
جسم و جاں
کے ساتھ
رہتی ہے
ادا جیسی
موسم نے
بدلی قبا
نغمے
وفاؤں کے
اس بار
تُو مجھ
کو سُنا
لکڑی کو
تو جلنا
ہے
آنکھ
ہوئی جو
نم
گرتے کو
سنبھلنا
ہے
مٹی میں
جو بُوتے
ہیں
دیکھ کے
اُس کا
پھل
ہم رات کو
روتے ہیں
اُلفت کے
خزانے
تھے
لوٹ لئے
گئے ہیں
اُس میں
تو زمانے
تھے
اب دامن
خالی ہے
خاک کے
نیچے بھی
وہ باغ کا
مالی ہے
اُٹھنے
کا اشارا
ہے
وقت سے
پہلے ہی
زندگی کا
خسارا ہے
لکھنے سے
ڈرتے ہیں
ظلم کی
بستی میں
ہر روز ہی
مرتے ہیں
برکھا
میں ایسا
کرو
جوڑ کے
ٹوٹے دل
دل داروں
جیسا کرو
اس دیس
میں ہم
جیسے
آئے تھے
مجبوری
کمانے
کوچند
پیسے
اس دیس کی
رعنائی
بدل رہی
ہے اب
جس طرح ہو
تنہائی
اپنوں کا
خیال آیا
چمن کے
آنگن میں
پھولوں
کا جمال
آیا
ہم سب ہی
کھلونے
تھے
ٹوٹ کے
بکھر ے
ہیں
برباد تو
ہونے تھے
جذبات سے
عاری تھی
فصلِ گل
کے ساتھ
اک رات
گزاری
تھی
اس خوف سے
جاگ پڑے
موت کے
آنے پر
سب لوگ ہی
بھاگ پڑے
حق بات
نہیں
کرتے
رب کے
ہوتے ہوے
کس بات سے
تم ڈرتے
بادل بھی
برستے
ہیں
تنہا
راتوں
میں
ہم تجھ کو
ترستے
ہیں
قسمت ہی
سنور
جائے
رات
اندھیری
بہت
اک پل میں
گذر جائے
گھٹا ٹوپ
اندھیرا
ہے
دیا جلا
رکھنا
نزدیک
سویرا ہے
مستی میں
رہتے ہیں
جام لگا
کر ہم
طعنے بھی
توسہتے
ہیں
مے پی کر
ہم تو چلے
چمن کے
پھولوں
سے
ہم خوب
گلے سے
ملے
دو نین
شرابی
ہیں
زلف ہے
کالی
گھٹا
اور گال
گلابی
ہیں
مے کشی کا
سہارا ہے
چاند جو
دیکھا ہے
وہ سب سے
نیارا ہے
انگُور
کے پانی
میں
بات نہیں
ہے وہ
جو ہے
میرے
جانی می
اک پیڑ کی
چھاؤں
میں
یاد کروں
وہ دن
گزرے تھے
گاؤں میں
جب نکل
چکے تارے
ڈوب گئے
غم میں
ہم قسمت
کے مارے
غم تجھ کو
بتاتے
ہیں
کھلا ہے
مے خانہ
قسمت کو
بناتے
ہیں
اُس پار
اُترنا
ہے
امن کی
بستی میں
ہم سب کو
بکھرنا
ہے
سورج کی
انگڑائی
پیار کے
میلے میں
آنے لگی
پُروائی
یہ کیسا
خزانہ ہے
جس کو
ڈھونڈرہا
یہ سارا
زمانہ ہے
سوچوں کے
سرہانے
پر
مفت کی
پیتے تھے
تیری
قربت
پانے پر
مے پینے
کی رُت
آئی
چلے ہم مے
خانے
مستی کی
گھٹا
چھائی
ہونے کا
سبب
پوچھا
ٹوٹ گیا
جب دل
تو رب بھی
ہے روٹھا
دو گھونٹ
شراب ملی
مٹی کے
سینے پر
قسمت ہی
خراب ملی
ساقی کی
یہ عادت
ہے
فرق سدا
رکھنا
عین اُس
کی عبادت
ہے
اُس آنکھ
میں کینہ
تھا
چین و
سکوں جس
نے
مجھ سے سب
چھینا
تھا
جب جام
اُچھالا
ہے
مہک
اُٹھی
کلیاں
آنچل بھی
سنبھالا
ہے
شیشے کی
کٹوری
میں
مے کا
ذائقہ
ملا
پردیس کی
گوری میں
غالب کا
سفال ِ
جام
دیکھ
لیاپی کے
رنج کم
ہوئے اس
شام
ہاتھوں
میں
اٹھاے
جام
شہر کے
لوگوں
میں
میں کتنا
ہوں
بدنام
کیا ہو گا
اب انجام
بھید نہ
کھل پایا
بس کام
ہوا ہے
تمام
پینا ہے
جام پہ
جام
کرم کے
پھل سے اب
یہ زیست
ہوئی
حرام
جب ٹوٹ
گیا ہے
جام
تودل
ڈھونڈے
گا
چاہت کا
اور مقام
مے کدے کا
رنگ کھلا
رسمِ دل
جوئی کا
ہم کو بھی
موقع ملا
زمانہ ہے
پینے کا
ستمِ جفا
کے سنگ
مر مر کے
بھی جینے
کا
فصل گل کا
جام پلا
ہجر کے
موسم میں
ملنے کا
حساب لگا
مے کشوں
کے سنگ
ہوے
رنگ مے
خانے کے
ہم دیکھ
کے دنگ
ہوے
کوئی
پھول نظر
آئے
دعا یہ
کرتے ہیں
کوئی
خواہش بر
آئے
مے خانے آ
ساقی
چشمِ وفا
کا ابھی
دروازہ
کھلا
ساقی
سب شہر
تماشائی
فلک سے
آیا ہے
بانٹے جو
بینائی
مکڑی
کایہ
جالا ہے
مجھ پہ جو
اُترا ہے
وہ نُور
کا ہالا
ہے
تجھ سے ہی
پیار
کرتے
جب تک
جیتے رہے
تیرا
اقرار
کرتے
تجھ سے دو
چار ہوئے
چُھوٹے
سارے کام
تب سے بے
کا رہوئے
اتنا
کیوں
خوار
ہوئے
پیار میں
ڈوبے جب
حدِ عشق
سے پار
ہوئے
غیروں سے
گلا کرنا
موجِ زن
میں تم
سب کا ہی
بھلا
کرنا
دن رات
میں کھو
جائے
پیار کی
چڑیا بھی
تھک ہار
کے سو
جائے
مل کر جو
جُدا
ہوتے
سخن کی
محفل میں
ہم قبلہ
نما ہوتے
اس شہر
میں لشکر
تھے
ہاتھ میں
تھامے جو
کانٹوں
کے بستر
تھے
جس بات سے
ڈرتے تھے
وہی اب آج
ہوا
کیوں عمل
نہ کرتے
تھے
جس رنگ کی
سیاہی ہے
بکھرے جو
گلیوں
میں
درد ناک
تباہی ہے
یہ بات
بھی عام
ہوئی
صبح گھر
سے چلے
رستے میں
شام ہوئی
سرِ عام
نیلا می
تھی
شہر کے
لوگوں
میں
سب کی
بدنامی
تھی
گلے مل کے
روتے تھے
فصل جو
کاٹی تھی
مل کے ہم
بُوتے
تھے
اشکوں کو
بہاتے
ہیں
فصلِ گل
کی طرح
ساجن کو
مناتے
ہیں
ہم دوُر
کی لاتے
ہیں
بات جو چل
نکلی
گھر آ کے
بتاتے
ہیں
گلشن میں
گُل
کھلتے
دعا تھی
یہی خدا
کبھی دل
سے دل
ملتے
ہم روز کی
کھاتے
ہیں
ختم نہ
غربت ہو
اب اُوپر
جاتے ہیں
اے خُدا
میں بہرا
تھا
پیار کا
متلاشی
تقدیر کا
مارا تھا
اک قلم
بنا
رکھنا
لکھ کر
تفسیریں
شلفوں پہ
سجا
رکھنا
دل دار
چلے ہیں
ہم
دیس کی
خوشیوں
پر
تن وار
چلے ہیں
ہم
پرندوں
کو اُڑنا
ہے
عدن میں
پیڑوں کی
شاخوں پہ
اُترنا
ہے
کھیتوں
میں اُگا
رکھنا
خون کی
سرخی سے
پھولوں
کو بچا
رکھنا
ہم لوگ
سما جاتے
تیرے دل
میں اگر
تھوڑی سی
جگہ پاتے
گر دل میں
سما جاتے
وقت سے
پہلے ہی
جینے کی
سزا پاتے
سورج کی
حرارت سے
مہک رہے
ہیں گُل
ہاتھوں
کی مہارت
سے
ہونٹوں
سے شراب
پلا
ریشم
باتوں سے
اک سرخ
گلاب
کھلا
روحوں کی
ملاقاتیں
کس کو
سنائیں
ہم
برسوں کی
مناجاتیں
آنکھوں
سے پلا
ساقی
پیار میں
لوٹ لیا
رہا کچھ
بھی نہیں
باقی
خوش حال
جزیروں
میں
ڈوب رہا
ہے دل
اَن
دیکھی
لکیروں
میں
مجھے دکھ
میں شامل
کر
پیار کے
ساگر سے
اک موتی
حاصل کر
تری آنکھ
نشیلی ہے
جھوم کے
ہم نے بھی
دو گھونٹ
جو پی لی
ہے
مٹی سے
اُگایا
گیا
آگ کی
چادر پر
پھر مجھ
کو سلایا
گیا
سوچوں کے
سمندر
میں
سفر تمام
ہوا
آ کر اس
مندر میں
گدھوں نے
نوچ لیا
جسم جو
باقی ہے
زندہ ہو
سوچ لیا
کوئی سرِ
شام
اُترا
امن کی
شاخوں پہ
یہ کس کا
نام
اُترا
ان درد کی
موجوں پر
سفر کے
لمحوں کا
رکھ مرہم
زخموں پر
لفظوں کی
روانی دے
دیس میں
میرے خدا
جذبوں کو
معانی دے
پُر شور
ہواؤں
میں
وصل کے دن
آئے
مہکی سی
فضاؤں
میں
دریاؤں
کے رستوں
میں
پتھربکھرے
ہیں جو
آتے ہیں
نگاہوں
میں
چمکتے جو
تارے ہیں
رات کے
آنگن میں
کیا خوب
نظارے
ہیں
بس ایک ہی
تارا ہے
رات کے
کونے پر
قسمت میں
تمہارا
ہے
تیرے بن
جیتے ہیں
وقت کے
پیالے سے
کیا کیا
ہم پیتے
ہیں
انجان
اشارا
تھا
موت سے
پہلے تک
لگتا تو
ہماراتھا
اُس جگہ
پہ چلتے
ہیں
جہاں پہ
ہر جانب
خوش رنگ
ہی کھلتے
ہیں
ہرشام کو
روتی ہے
خون کے
آنسو وہ
جب سڑک پہ
سوتی ہے
اُڑ نے کو
ترستا
تھا
خشک
میدانوں
پر
اک ابر
برستا
تھا
ہم سُرخ
گلابوں
میں
چھپا کر
آہوں کو
روتے ہیں
خوابوں
میں
اُس شہر
کا قصہ
تھا
لہو میں
تر بہ تر
تعصب
کاحصہ
تھا
دل والوں
کی بستی
تھی
آگ میں جل
کر بھی
آنکھوں
میں
ہنستی
تھی
اس طرح کا
لباس ہے
دیس کی
گوری میں
اپنوں کا
احساس ہے
اپنوں
میں
اکیلا
تھا
شہر کی
گلیوں
میں
خواہشوں
کا میلہ
تھا
میں روح
کے اندر
تھا
موت کے
رستے میں
سانسوں
کا جنگل
تھا
یہ کس کی
شرارت
تھی
بدن کی
حرکت میں
صحرا کی
حرارت
تھی
حرفوں سے
جُدا ہو
کر
قلم کو
دفن کرو
زندگی سے
رہا ہو کر
شہروں
میں عذاب
رکھے
خُدا نے
اچھا کیا
صحرا میں
سراب
رکھے
سوچوں
میں
خسارے
تھے
وقت کے
دھارے
میں
یہ واضع
اشارے
تھے
خوابوں
کا تسلسل
تھا
قید ہوئے
جس میں
وہ عذاب
مسلسل
تھا
کسی پٹی
لکیر
ہوئے
دشت کے
رستے پر
خود اپنی
نظیر
ہوئے
اس ہاتھ
کو طاقت
دے
ظلم سے
لڑنے کی
مجھے بھی
سعادت دے
ہم صبر
میں روتے
ہیں
شہر کی
سڑکو ں پر
وہ جشن
مناتے
ہیں
اُنگلی
کو قلم
کرتے
عشق کی
راہِ فنا
پر اُس کا
دم بھرتے
دل تیرے
حوالے ہے
عشق کے
ہاتھوں
میں
کچھ روگ
بھی پالے
ہیں
اس دیس کے
میلے میں
ڈوب گئے
ہیں ہم
بئیر کے
پیالے
میں
آنکھوں
میں
تعبیر
لئے
صبح سے
نکلے ہیں
قلم کی
شمشیر
لئے
کچھ روز
قیام کرو
مرے دل
میں کبھی
بسر ایک
شام کرو
مدتوں سے
صبرکرتے
عشق کے
رستے پر
مل کر ہی
سفر کرتے
یوں دل
میں
اُتارا
ہے
وصل کا ہر
لمحہ
ایک ساتھ
گذرا ہے
مجھ پر
بھی اثر
ہوتا
روح اور
جسم کا
جب سفر
ختم ہوتا
بادباں
بھی
کھلنے
لگے
ہجرکے
موسم میں
ہم تم سے
ملنے لگے
مے خانے
کھلنے
لگے
دورِ جام
چلے
بام و
درہلنے
لگے
دل درد سے
خالی ہے
رات کی
ڈولی میں
کوئی آنے
والی ہے
ہم بہت
عظیم
ہوتے
حکمِ
رہائی پر
جو دل کے
اسیر
ہوتے
چھتوں پر
جلتے رہے
دیئے
اُمیدوں
کے
دل دل سے
ملتے رہے
مقتل سے
گزر جاتی
مہک کی
مانند وہ
پر موت سے
ڈر جاتی
آہوں میں
بسر ہو گی
ہم نہ ہوں
گے تو پھر
تجھ کو یہ
خبر ہو گی
شہروں
میں سحر
ہوتی
عمر
ہماری
کبھی
اک ساتھ
بسر ہوتی
کانٹوں
پر سوئے
تھے
غیر سے
شکوہ کیا
یہ ہم نے
ہی بُوے
تھے
ہم اُن سے
کہتے رہے
ڈوب کے من
اندر
جو عشق
میں بہتے
رہے
ہم جس کو
سمجھے
کام
خودی کی
محفل میں
رندوں کا
تھاوہ
جام
کیسی یہ
بنی کمند
ہم جیسے
بھی جہاں
رسموں کے
ہیں
پابند
یہ سفر
اسے پسند
پتھر وں
پہ چلنے
کا
رکھ
حوصلہ
تُو بلند
دل میں یہ
خیال آئے
حسن کی
بستی پر
اے خُدا
نہ زوال
آئے
خواہش کے
جال میں
ہم
پھنس کے
رہ گئے
ہیں
بے کس کے
حال میں
ہم
رتبہ ہے
بہت بلند
غیرکی
باتوں
میں
ٹوٹ رہی
ہے کمند
تُو مجھ
کو بہت
پسند
عمر ہوئی
ہے تیری
زلفوں کے
ہیں
پابند
تقدیر
بنی ہے
جُدا
تجھ کو
پکاروں
گا
اے خُدا
رحیم
خُدا
اک عمر
عبادت کر
شہر میں
جا کے پھر
لوگوں سے
محبت کر
جس شہر
میں رہنا
ہے
اُس کے ہر
باسی کو
آداب بھی
کہنا ہے
آنکھوں
میں
بسارکھنا
بچھڑ کے
ملنے کی
اک حسنِ
ادا
رکھنا
چہرے پہ
نقاب
رکھا
ہجر کی
راتوں
میں
رونے کا
حساب
رکھا
اک عمر
صبر کرتے
جدا نہ
ہوتے گر
موسم کی
قدر کرتے
صدیوں سے
چلتے رہے
عمر کے
صحرا میں
برسوں سے
ملتے رہے
اس بار وہ
شام نہیں
غمِ
تنہائی
ہے
کچھ کرنے
کو کام
نہیں
رکھنا ہے
علم آگے
عشق کی
راہوں پر
چلتا ہے
قلم آگے
تب جان
نکلتی ہے
قلم کی
گرمی سے
جب برف
پگھلتی
ہے
اک شکل
بناتا ہے
قلم اور
کاغذ کے
بس جام
پلاتا ہے
دامن ہی
خالی ہوا
سب کے
سامنے اب
یہ ہاتھ
بھی
تھالی
ہوا
اک پیڑ کا
سایا تھا
شام سے
پہلے ہی
مجھے
ملنے آیا
تھا
اس شہر
میں آ یا
رب
امن کے
پھولوں
کو
کھیتوں
میں اُگا
یارب
ہم تم کو
خُدا
کہتے
ذکر تیرا
جب ہو
سب اُس کو
دعا کہتے
ہم بادہ
خوارہوئے
زلف کے
کھلنے تک
ہم بہت
بیمار
ہوئے
صدیوں کی
کہانی ہے
پیار کی
دنیا میں
غوری کی
زبانی ہے
لہو میں
ملاوٹ ہے
لب پر
ہنسی سجی
ہر عمل
سجاوٹ ہے
تم عشق سے
ڈرتے ہو
سُرخ
گلابوں
کی
تم بات
بھی کرتے
ہو