مکالمہ
جیم فے
غوری
لکڑیوں کے
جلنے اور
چٹخنے کی
آواز میرے
ذہن کو بہت
سکون و
اطمینان
دیتی ہے .
بلکہ مجھ
پر ایک
عجیب سا
سحر طاری
ہو جاتا ہے
اس کی ایک
وجہ تو آگ
کی گرمی ہو
سکتی ہے جو
نقطہ
انجماد
سے نیچے
گرے ہوئے
درجہ
حرارت کا
احساس
نہیں ہونے
دیتی اور
بھاری بھر
کم سردی سے
محفوظ
رکھنے
والے
کپڑوں سے
نجات کا
سبب بنتی
ہے. الاؤ
کے پاس
بیٹھ کر
میٹھے اور
کڑوے
مشروبات
سے لطف
اندوز
ہونے کی
روایت اور
کھانے کی
بھینی
بھینی
خوشبو
انسان کے
اندر خود
اعتمادی،
حفاظت اور
جینے کی
اُمنگ
پیدا کرتی
ہے.
لکڑیوں کے
جلنے سے
جنم لینے
والی
حرارت سے
جسم و روح
اور دل و
دماغ پر اس
طرح سے
سکون و
اطمینان
قابض ہوتا
ہے جو کچھ
دیر کے لئے
گھر سے
باہر کے
ماحول کو
یکسر
بھلانے کے
لئے کافی
ہوتا ہے
کیونکہ
سڑکوں پر
دوڑتی
گاڑیوں کی
آوازیں
اور اُن کے
ٹائروں پر
کِسی ہوئی
لوہے کی
زنجیروں
کی آوازیں
جو سڑکو ں
پر بے
ترتیب جمی
ہوئی برف
پر اُنھیں
پھسلنے سے
بچاتی ہیں.یہ
بے ترتیب
آوازیں
لوگوں کے
اندر عدمِ
تحفظ کا
احساس
پیدا کرتی
ہیں اور
یوں بھی
گھر کی
انگھیٹی
میں جلتے
الاؤ کے
قریب آرام
کرسیوں پر
براجمان
افراد کے
درمیان
ہونے والی
گفتگو، جس
میں پیار
محبت کے
قصے اور
نئے رشتوں
کی
استواری
کی باتیں،
پرانے
رشتوں کی
یادوں کی
ایک دوسرے
کے ساتھ
شراکت کی
روایت
میرے ذہن
کو سکون و
اطمینان
بخشتی اور
زندگی کو
آگے
بڑھانے کی
ضد کرتی ہے.
آتش دان کے
آگے بیٹھے
آج مجھے
تیرھویں
صدی کے
فلسفی
مقدس
تھامس
اکینوسؔ
کے الفاظ
یاد آ رہے
ہیں.جو
انہوں نے
علم
اخلاقیات
کے اصول
اور طاقت
کے
استعمال
کے بارے
میں اپنی
کتاب میں
لکھے کہ
پہلا اصول
طاقت کے
استعمال
اور عمل کا
کیا ہے.
جوہر
تکمیل کی
علامت ہے
اب ایک چیز
کی تکمیل
اُس کے
خاتمے کے
قیاس پر کی
جاتی ہے۔
لیکن طاقت
کا ختم
ہونا ایک
عمل ہے
الہذ یوں
طاقت کی
تکمیل
ہوتی ہے اس
طرح جس طرح
وہ اپنے
عمل میں
تمیز کرتی
ہے وہ چار
بڑے
بنیادی
جواہر کو
بیان کرتے
ہیں جو
دانائی ،
ضبطِ نفس،
انصاف اور
تحمل پر
مشتمل ہیں
یہ چاروں
بنیادی
جواہر
فطرت میں
قدرت کے
ساتھ آ
شکارا ہیں
اور ان کا
وجود ایک
دوسرے کے
ساتھ
وابستہ ہے.
اس کے ساتھ
ہی امن و
سکون کی
تلاش میں
سرگرداں
اور طاقت
کے
استعمال
سے
نآشنااقلیتوں
کے بارے بے
شمار
سوالات
میرے ذہن
میں در آتے
ہیں جو
لکڑیوں کے
جلنے کی
وجہ سے
پیدا ہونے
والے
دھواں کی
طرح میرے
اردگرد
پھیلے
ہوئے ہیں.پہلا
سوال یہ ہے
کہ مٹھی
بھر لوگوں
کے پاس
کوئی طاقت
ہے یا نہیں
اگر وہ یہ
طاقت حاصل
کرنا
چاہیں تو
کہاں سے
حاصل کریں
گے .طاقت
حاصل کر
لینے کے
بعد وہ یہ
طاقت کس کے
خلاف
استعمال
کریں
گے۔اس
طاقت کا
استعمال
کن کے مفاد
میں ہو گا
اور اس کے
استعمال
سے وہ کن
طاقتوں سے
جان
چھڑئیں
گے۔طاقت
کے
استعمال
کے بعد جو
نتائج
سامنے
آئیں گے
اُن کے لئے
وہ کس کو
جواب دہ
ہوں گے.
کیونکہ
طاقت کا
استعمال
جنگ کو جنم
دیتا
ہے۔اور
جنگیں آپس
میں صلح
صفائی اور
تمام
رابطوں کو
ختم کر
دیتی ہیں.اقلیتیں
امن و سکون
اور بھائی
چارے کے
ساتھ رہنا
چاہتی ہیں
اس مقصد کے
حصول کے
لئے وہ
اپنے خیر
خواہوں سے
خطیر رقم
لے کر عام
لوگوں سے
لے کر امیر
لوگوں کی
تعلیم و
تربیت اور
ترقی پر
خرچ کرتے
ہیں. آپ
سوچیں اگر
وہ نیک
کاموں اور
لوگوں کی
فلاح و
بہبود کے
لئے رقم
حاصل کر
سکتے ہیں
تو دہشت
گرد
تنظیموں
کی طرح یہی
رقم تخریب
کاری
اورلوگوں
کو قتل
کرنے کے
لئے بھی
استعمال
کر سکتے
ہیں.محسوس
کرنے کی
بات ہے کہ
پوری قوم
ترقی
یافتہ
روشن
مستقبل کے
لئے اشارے
دے رہی ہے
یا آنے
والے دنوں
کے لئے
تیزی کے
ساتھ
مشکلات کو
جنم دے رہی
ہے اگر ہم
حیرت
انگیز
ترقی
یافتہ
مستقبل کی
طرف قدم
بڑھ رہے
ہیں تو
اپنے پہلو
میں
کسمپرسی
کی زندگی
بسر کرتی
اقلیتوں
کی طرف
دھیان
دینا ہو
گا۔اُن کے
بنیادی
حقوق کا
خیال
رکھنا ہو
گا اُن پر
ظلم و تشدد
کے بڑھتے
رجحان کو
روکنا ہو
گا اور اُن
کے خلاف
ہونے والے
قتل و غارت
کے واقعات
پر نظر
رکھنی ہو
گی۔ اُن کی
جان و مال
کو تحفظ
دینا ہو گا.
کون کہتا
ہے کہ میں
پست تھا کل
سے بے خبر
حال میں
مست تھا
بدن جلتے
اُڑتی خاک
میں گھر
لٹانے میں
کیوں سست
تھا
فصیل شہر
پیار تھی
ورنہ شہر
تو ناقابل
شکست تھا
.it sacwait@alice