Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار

 
 
 
 Mukalamah August 2
 

ا طالیہ میں اُردو کی صورت حال
جیم فے غوری (اٹلی)
اطالیہ میں عرصہ دراز سے ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق ہر سال بجٹ میں مشرقی بولیوں کی ترقی و ترویج کے لئے ایک خطیر رقم مختص کی جاتی ہے. لیکن اُردو زبان کے حوالے سے صورتحال بہت فرق اور افسوسناک ہے. حالانکہ جب ہم اردو کی اطالیہ میں تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اٹھار ہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں کچھ شہادتیں ایسی ملتی ہیں. جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو زبان کے فروغ کے لئے یہاں کوششیں ضرور کی گیءں ہیں.مثال کے طور پر ویٹکن سٹی روم کی لایئبریری میں ایک ایسی کتاب موجود ہے. جس کا نام ’’ ہندستانی زبانوں کا خزانہ ‘‘ ہے. جس کو فراپولینو بارتولیمیو((fro paolino Barolomeo نے ترتیب دیا ہے. ویٹکن لایئبریری میں میر سحر علی افسوسؔ کا قلمی نسخہ ’’ آرائش محفل ‘‘ بھی موجود ہے. جو اُس وقت کے پوپ پائیس نہم کو تحفہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا.اس کے علاوہ کامیلوتالیابو
((camillo Tagliabue کی لکھی اردو گرائمر کی کتاب جواصلی مشرقی انسٹی ٹیوٹ ناپولی(Napoli) کے زیر اہتمام شائع ہوئی تھی، بھی موجود ہے۔اٹلی کے مشہور ادیب اور دانشور ویٹو سیلیرنو(Vito Salieno) نے اس سال علامہ اقبال کی لکھی بانگِ درا کا اردو سے براہ راست اطا لوی زبان میں ترجمہ کیا ہے. جو وآج کل ینان پر بہت مقبول ہو رہا ہے.
لیکن اطالیہ میں اردو کی صحیح اور حقیقی حوصلہ افزائی اور اس کے ادبی سرمایہ کی خوبصورتی کا اعتراف اور برصیغر پاک و ہند میں اس کی اہمیت اور خدمات کا اعتراف کا دور صحیح معنوں میں اس وقت شروع ہوتا ہے. جب اطالیہ کے لسانی باب کے منظر نامے پر روم کا الیسیندرو بُوسانی(Alessandero Bausani Rome 1921-88) نمودار ہوتا ہے.وہ ایرانی زبان اور اسلامک سٹڈی کا عالم تھا. اسے عربی ،فارسی اور ترکی زبانوں پر عبور حاصل تھا. اس کی زیادہ توجہ ہندستانی جدت پسندی پر مرکوز رہی. اس نے بہت سے مضامین اردو ادب میں جدیدیت کے حوالے سے تحریر کیے .اُس نے اپنے پہلے مضامین انجمن ترقی اردو کی شائع کردہ پبلی کیشنز پر لکھے. جو ڈاکٹر صیادؔ کی لکھی کتب ’’ اقبال کے محبوب اشعار‘‘ اور ’’کاروان خیال ‘‘ پر تبصروں کے حوالے سے تھے.۵۲۔۱۹۵۱ ؁ میں بُوسانی نے ’’علامہ ا قبال اور ایلگری دانتے ؔ ‘‘ کے موضوع پر مضمون لکھا اور اُس کے بعد ’’اقبال کی مذہبی فلاسفی اور مغرب‘‘ کے عنوان سے طویل مضمون لکھا جس میں بُوسانی نے غالبؔ کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اقبال کی شاعری میں غالب کی گونج سنائی دیتی ہے،مثال کے طور پر، ؔ عشق سے طبعیت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
ؔ ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو اک دوسرا نقش پایا
وہ اقبال کے ’’ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ کا ذکر کرتا ہے. پھرمولاناالطاف حسین حالیؔ کا اقبال کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے یوں بیاں کرتا ہے.کہ اقبال نے حالیؔ کو ہمیشہ زندہ رہنے والا نام دیا اور مے کے پیالے سے تشبیہ دی اور کہا کہ میں پیغمبر کی بادشاہت کا شاعر ہوں لیکن جب لب کھولتا ہوں توحالی ؔ کا نام سب سے پہلے میری زبان پر آتا ہے.بُوسانیؔ کے نزدیک حالیؔ فکرِ غالبؔ کو آگے لے کر چلتا ہے.وہ اس طرح کہ غالبؔ نزاکت اور افراد کی عملی آزادی کی شاہانہ شاعری کا پابند ہے .گریہ و زاری اور قنوطیت پسندی کا حقیقت میں یہاں سے زوال شروع ہوتا ہے.حالیؔ ایک نئے شاعرانہ منشور جو انقلابی اور قومی جذبہ پر مبنی ہے کا افتتاع کرتا ہے.اس طرح حالیؔ اُن اطالوی شعراء کی صف میں شامل ہو جاتا ہے .جنہوں نے مذہبی عقیدت کا احیاء کیا.حالیؔ کی شاہکار نظم’’ مدو جزرِ اسلام‘‘ نہایت سلیس اور سادہ زبان میں ہے.جس کا انیسویں صدی کے پاک و ہند میں رہنے والے مسلمانوں پر گہرا اثر دکھائی دیتا ہے. اس نظم نے برطانوی سامراجی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک پیدا کی.اقبال اور حالی کی شاعری نے انڈین مسلمانوں میں آزادی کی بیداری کواجاگر کیا.
اطالیہ میں آج یہ تاثر عام ہے کہ اردو زبان ، عربی اور فارسی بولنے والے ممالک سے آئے ہوئے باشندوں کی زبان ہے.مگر لسانیاتی تحقیق کے مطابق یہ بات عیاں ہے کہ اُردو زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی اور اسے مقامی باشندوں نے پروان چڑھایاہے. اس کی بناوٹ ہندی جملوں کی طرح ہے.اور کبھی کبھی یہ تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے والا شخص ہندی بول رہا ہے یا اُردو.اردو زبان کا پہلا سوفٹ ویئر ’’ اردو اِن پیج ‘‘ تیار کرنے والی کمپنی کونسپٹ سوفٹ ؤئیر کا مالک ایک ہندو ہے اور یہ سوفٹ وئیر انڈیا میں تیار ہوا ہے.
ہمیں اُس سوفٹ وئیر کے استعمال کو فروغ دینا ہو گا. مقتدرہ قومی زبان پاکستان نے تختی برائے کمپیوٹر تیار کی ہے.اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کر نے سے اردو کو فروغ دیا جا سکتا ہے. مقتدرہ قومی زبان پاکستان کی ترتیب دی ہوئی اردو لغت ایک عمدہ اور قابل اعتماد لغت ہے . ہمیں اس کا استعمال اپنے تعلیمی ادروں میں کرنا چاہیے.
برقی ذرائع ابلاغ میں ای میل رومن اردو میں لکھنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم سے کم کرنا چاہیے اور مقتدرہ قومی زبان پاکستان کی تیار کردہ اردو تختی برائے کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہوئے ای میل اردو زبان میں آسانی سے لکھی جا سکتی ہے. لہذا انٹرنیٹ اور برقی ابلاغ عامہ میں اردو کے معیار اور ترقی کے لئے رومن اردو کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے اردو سوفٹ وئیر اِن پیج کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں.تاکہ اردو زبان کو اطالیہ میں زندہ رکھا جا سکے.
اگر ہم نے اردو کی ترقی و ترویج کے لئے اطالیہ میں ٹھوس اور مثبت اقدام نہ اٹھائے تو مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری تیسری نسل اُردو کو خیر باد کہہ دے گی.اردو زبان کو اطالیہ میں زندہ رکھنے کے لئے مجلسِ اقلیتی منصفین جنوبی ایشیاء اور حلقہ ارباب ذوق جیسے ادارو ں کو میدانِ عمل میں آنا ہو گا۔ اردو زبان و ادب پر سمینارز اور مذاکروں کا اہتمام کم از کم بڑے شہروں میں ضرور کرنا ہو گا.ہفتہ وار ادبی اجلاس اور عوامی مشاعروں کو رواج دینا ہو گا. اس کام میں اطالیہ میں پاکستانی سفارت خانہ اور مقرر کردہ سفارت کاروں کا اہم کردار ہو سکتا ہے. مجھے یقین ہے کہ اطالیہ میں اردو زندہ رہے گی۔اردو کی شمع فروزاں رہے گی اور اردو زبان سے محبت کرنے والے اس کی پرورش اپنے خونِ جگر سے کرتے رہیں گے.
جیم فے غوری
فیدنسا، اٹلی


Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »