Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار

 
 
 
 
 Mukalamah(Dialogue) July

حیدر قریشی کے لیے دعا اور محبت
جیم فے غوری(اٹلی)

سوچنے کا عمل انسان کونئی منزلوں کو تلاش کرنے کی طرف مائل کرتا ہے .رینے دیکارٹؔ نے اپنی فلسفیانہ تلاش و جستجو کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ تھا کہ شک و شبہ سے بالا تر ایک ہی حقیقت ایسی ہے کہ "میں سوچتا ہوں، اس لئے میں ہوں"حیدر قریشی سے کچھ عرصہ پہلے ایک مختصر گفتگو کے بعدجب میں نے اس جید عالم شخص کے بارے سوچنے کی کوشش کی ،تو مجھے حیرت ہوئی کہ میرے سوچنے کا عمل جو پچھلے اٹھارہ برس سے گھر کے نیچے تنگ و تاریک سٹور میں ایک بند ڈبے میں پڑا تھا، میں اُسے کھولنے پر مجبور ہو گیا اور جب میں نے سوچنا شروع کیا تو مجھے اپنے وجود کا احساس ہوا. اس احساس کے ساتھ میں نے فیصلہ کیا کہ ادبی دنیا سے خود ساختہ جلاوطنی کو ختم کیا جائے،چنانچہ میں نے ادب دیس کی شہریت کے لئے درخواست حیدر قریشی کی وساطت سے جمع کرانے کا فیصلہ کیا.اب دیکھتے ہیں.کہ اربابِ اختیارِ ادب میری درخواست پرکب تک غور فرماتے ہیں۔
حیدر کو جب میں اپنے کمرہِ مطا لعہ میں تنہا بیٹھ کر سوچتا ہوں، تو وہ مجھے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے، جو میرے سامنے جسم و روح کے آپس کے تعلق کے بارے میں اپنے خیالات میری میز پر تہہ در تہہ جمع کرتا جا رہا ہے وہ ایک ایسے تخلیق کار کی طرح مجھ سے مخاطب ہوتا ہے،جس کے ہاں تصوف،فلسفہ اور جدید سائنسی انکشافات سب ایک لظیف انداز میں موتیوں کی لڑی سی بنتے جاتے ہیں۔جسم سے روح تک اس کا سارا سفراس کائنات کے عظیم تر تخلیق کار کی جستجو کا سفر بن جاتا ہے۔اپنے اس سفرکی روداد کو وہ تمثیلوں میں بھی بیان کرتا ہے اور براہ راست بھی۔لیکن دونوں صورتوں میں ہی وہ نفسِ مضمون کو پوری سچائی کے ساتھ اور لطافت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
حیدر قریشی اب تک شاعری کے پانچ شعری مجموعے پیش کر چکے ہیں اور ان کا نیا مجموعہ بھی قریب الاشاعت لگ رہا ہے۔افسانوں کے دو مجموعے چھپ چکے ہیں اور مزید افسانے بھی لکھ رہے ہیں۔خاکوں کا ایک مجموعہ،یادوں کا ایک مجموعہ،انشائیوں کا ایک مجموعہ اور ایک سفر نامہ ۔۔۔یہ سب چھپ چکے ہیں۔ماہیے کی تحقیق و تنقید پر ان کی پانچ کتابیں اب ایک ہی جلد میں چھپنے والی ہیں۔جبکہ دوسرے موضوعات پر ان کی تین تنقیدی کتابیں الگ سے چھپ چکی ہیں۔حالاتِ حاضرہ پر ان کے کالموں کے تین مجموعے چھپ چکے ہیں۔کالم نگاری ترک کر دینے کے باوجود دو تین اخبارات میں ان کے مزید کالم چھپ چکے ہیں،کوئی پتہ نہیں کب وہ بکھرے ہوئے کالم کالموں کے چوتھے مجموعہ کی صورت میں سامنے آ جائیں۔ان ساری کتابوں کے ساتھ ان کی گیارہ تخلیقی کتابوں کا بڑے سائز کا ضخیم مجموعہ ’’عمرِ لا حاصل کا حاصل‘‘چھپ چکا ہے۔افسانوں کے ہندی اور انگریزی تراجم کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔اس سارے علمی و ادبی کام کے ساتھ نہایت اہم اور معتبر ادبی رسالہ جدید ادب جرمنی کی اشاعت کاسلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔آج کے ادبی رسائل میں جن گنتی کے ادبی رسائل کو وقار اور اعتبار حاصل ہے جدید ادب ان میں نمایاں ہے۔اپنی تخلیقات میں،اپنی تحقیق و تنقید میں،اپنی مدیرانہ حیثیت میں حیدر قریشی نے ایک کم از کم معیار کو ملحوظ رکھا ہے ان کا یہ کم از کم معیار کئی لکھنے والوں کے اعلیٰ تر معیار سے بڑھ کر ہے۔
اتنا سارا ادبی کام کرنے والے عصرِ حاضر کے اس اچھے شاعر اور ادیب کو اس کے عہد نے علمی و ادبی اعتراف سے بھی نوازا ہے۔بھاولپور یونیورسٹی سے ان پر ایم اے کا مقالہ لکھوایا اور منظوری کے بعد اس کو شائع بھی کیا گیا۔پاکستان سے ڈاکٹر نذر خلیق اور ارشد خالد نے اور انڈیا سے نذیر فتح پوری اور سنجئے گوڑ بولے نے ان کے فن اور شخصیت کے بارے میں کتابیں مرتب کیں۔پاکستان کی ایک یونیورسٹی نے جدید ادب پر ایم اے کا مقالہ لکھوایا۔حیدر قریشی کے علمی و ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے دو پراجیکٹ اس وقت چل رہے ہیں۔حیدر قریشی کا رجحان مجلسی نہیں ہے بلکہ علمی ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے کام کا اعتراف بھی علمی سطح پر کیا جا رہا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ ایسی ادبی شخصیت کے ساتھ میرا تعلق اور واسطہ ہے۔اٹلی کے اس سیمینار کے انعقاد کے سلسلہ میں انہوں نے کئی مفید مشورے دئیے تھے۔ان کی شرکت سے اس سیمینار میں بہت رونق ہو جانی تھی۔لیکن اپنی گزشتہ سال کی بیماریوں کے بعد انہیں علاج معالجہ کے سلسلہ میں عین انہی تاریخوں میں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ہے جب ہمارا سیمینار ہو رہا ہے۔ہم سب ان کی مکمل شفا کے لیے خداوند پاک سے دعا کرتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی کے باوجود ان کو خود میں موجود رکھنے کے لیے ان کے اعزاز میں ہونے والی یہ نشست برپاکر رہے ہیں۔یہ ہماری طرف سے حیدر قریشی کے ساتھ اپنی ادبی محبت کا اظہار ہے۔یقین کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ اگلے سال جب ہم اٹلی میں ایسا سیمینار کریں گے تو وہ ضرور صحت تندرستی کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہوں گے۔تب ہم انہیں براہِ راست سن سکیں گے۔


Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »