Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار

 
 
 
 Mukalamah (Dialogue

 

مکالمہ
جیم فے غوری
حالیؔ کے خیال میں (Dramatic poetry)ڈریمٹک پولئٹری نے یوروپ کو اس قدر فائدہ پہنچایا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے کہ انھیں اس سے اپنی سماجی، اخلاقی اور معاشی اقدار کو مضبوط تر کرنے میں بے پناہ مدد ملی۔خاص طور پر وہ شیکسپیرؔ کے ڈراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ شیکسپیرؔ کے گلی محلوں میں کھیلے جانے والے ڈراموں نے اُس وقت کے معاشرے پر بے انتہا اثرچھوڑا۔
پھر وہ (Asian Poetry)ایشین شاعری کا حوالہ دیتا ہوا کہتا ہے کہ ہماری شاعری میں ایسی مثالیں تو ناپید ہیں مگر ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں جن سے شعر کی غیر معمولی تاثیر اور اُس کے جادوائی اثرکا ثبوت ملتا ہے۔
ایک مثال اٹلی کے عظیم شاعر دانتےؔ کی ہے۔جس کوسیاست میں حصہ لینے اور مظلوم کی حمایت کی پاداش میں وقتِ حاکم نے بھاری جرمانہ کی سزا سنائی۔ مگر دانتےؔ نے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تو اُس کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی، پھر بھی اُس نے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کیا تو
اُسے ایک اور کڑی سزا کے ساتھ جلاو طن کر دیا گیا کہ اگر دانتےؔ وطن واپس آئے تو اسے لوہے کی سلاخ میں پرو کر آگ پر زندہ بُھون دیاجائے گا۔اس کے بعد دانتےؔ کی شہرہ آفاق نظم ڈیوین کامیڈی پورے اٹلی میں ڈرامائی شکل میں پیش کی جانے لگی، یوں اس طویل نظم نے لوگوں کے دل و دماغ میں برائی کے خلاف مزاحمت کے سوئے ہوئے جذبہ کو اُبھارنے میں مدد دی۔
راما ئن جو قبل از مسیح وجود میں آئی، سنسکرت کے ایک شاعر والمیکیؔ نے اُس وقت کے رائج لوک گیتوں سے استفادہ کر کے تالیف کی.یہ اُس وقت میدان جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں میں مزاحمت کے جذبے کو تازہ رکھنے کے لئے گائی جاتی تھی .پانچ سو سال تک شعراء اس میں اضافہ و ترمیم کرتے رہے.رامائن میں اس وقت چوبیس ہزار (24.000)اشعار موجود ہیں،
مزاحمت عموما گروہی منصوبہ بندی ہوتی ہے، جو کسی تحریک، تنظیم، یا لوگوں کے مخصوص گروہ میں کی جاتی ہے اور اس کا تعلق براہ راست ڈرامائی انداز میں عوام اور ارباب اختیار کے آمنے سامنے ہونے سے ہوتا ہے.یہ طریقہ مزاحمت کو پُر اثر اورفطرتی ماحول کے قریب رکھتا ہے.یوں گلی محلے میں عام لوگوں پر تشدد کر کے ماحول کو خراب نہیں کیا جاتا.پاکستان میں اقلیتیں بجائے مزاحمت کا راستہ اختیارکر نے کے اپنے آپ کو بے دست و پاخیال کرتی ہیں.ہر فرد سہما ہوا ہے او ر ہر فرد خوفزدہ ہے.ان حالات میں جیسے ہی کسی مرد حق نے ان کچلے ہوئے لوگوں کو مزاحمت کرنے کا حوصلہ دیا تو یہ فورا ڈر کا لبادہ اُتار کر میدانِ عمل میں اُتر آہیں گے اور آزاد فضا میں سانس لیں گے.مگر شرط یہ ہے کہ ڈر ختم ہونا چاہیے. وہ ڈر مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی استحصال کا خوف ہو یا انسان کے اندر چھپی ہوئی بے یقینی کا ڈر ہو.اب اقلیتی ادبا و شعراء کو اپنے اشعار اور نثرکے ذریعے یہ کردار ادا کرنا ہو گا.دانشوروں اور مذہبی راہنماوں کو اپنے نیٹ ورک کے ذریعہ جن میں کانفرنسیں،تحقیقی پراجیکٹ،پبلی کیشن منصوبے،اور موضوعاتی تعلیمی آگاہی کے سمینارز شامل ہیں، میں مزاحمت کے بارے تعلیم دینی ہو گی تاکہ تعلیمی اور سیاسی سطح پر اکثریت کو اقلیت کے بنیادی حقوق کا احساس کرنے کا موقع فراہم ہو.sacwait@alice.it

 


Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »