Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار

 
 
 
 Mukalamah October
 

اردو ادبی سمینار میں جیم فے غوری کا ابتدائیہ

چھوٹے سے شہر میں قدآور شخصیات کا میلہ اوراردو ادب کے درخشاں ستاروں کا اپنے ادب پارو ں کے ساتھ اُترنا، اس شہرکی عزت اور رونق میں اضافہ کا سبب بنی. میںآپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ حضرات نے ایک گمنام اور چھوٹے سے لکھاری اور صحافی کی دعوت قبول کی.اور ایشیاء ،یوروپ اور امریکہ سے طویل سفر اور خاص طور پر ایشیاء سے آنے والوں نے ویزا حاصل کر نے کے لئے جو پاپڑ بیلے اور تھکا دینے والا صبر آزما سفرکیا.یہ سب اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کا طرہ امتیاز ہے. میں دل کی گہرایؤں سے آپ سب حضرات کو اردو ادبی کانفرنس اور مشاعروں میں خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے پر فخر محسوس کرتا ہوں.
اس کانفرنس کاخیال میرے بچپن کے دوست افضال فردوس کا تھا.جو امریکہ سے اٹلی آنے اور میرے بال بچوں کو دیکھنے کا خواہش مند تھا اور خاص طور پر پچیس برس بعد ہم دونوں کا ٹوٹا ہوا رابطہ بحال ہونے پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر پاکستان میں بیتے ہوئے بچپن کے گرم اور سرد موسموں کی خوشگوار اور تلخ یادوں کی دُہرائی کر کے کبھی اُداس اور کبھی ہسنا چاہتا تھا. ہم دونوں نے عملی زندگی میں ایک ساتھ قدم رکھا.اُسے شاعری وارثت میں ملی اور مجھے شاعری میں طبع آزمائی کی تحریک اس سے ملی.مجھے وارثت میں امریت ملی، میرے والد ڈسپلن میں سخت طبعیت کے مالک وطن کے سپاہی ٹھہرے،جن کے بھاری بھر کم سیاہ چمک دار بوٹوں سے میں ہمیشہ خوف زدہ رہا.
میں نے اس خیال اور منصوبے کا ذکر جرمنی میں حیدر قریشی سے کیا.انہوں نے استادانہ رویہ کی بجائے دوستانہ انداز میں بے شمار مشورے دیئے اور فوراً اس اہم منصوبہ پرعمل درآمد کرنے کی ہدایت کی.دوسرے دن جب اُن کا فون آیا تو تقربیاً بیس منٹ میں اردو ادبی سمینار اور سویئٹرزلینڈ کے مشاعرے کا پروگرام ہم نے ترتیب دے لیا.اس کے بعد دوسرے دن پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اردو ادباء و شعراء کو یہ خبر مل چکی تھی کہ اٹلی میں تین روزہ اردو ادبی کانفرنس اور مشاعروں کے علاوہ تاریخی مقامات کی سیر کے ساتھ سویئٹرزلینڈ میں بھی مشاعرہ اور سیر کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے.
یہ سب کچھ اپریل کے مہینہ میں ہوا، جس کے بارے ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ اپریل بڑا ظالم مہینہ ہوتا ہے اور فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ اپریل میں پھول کھلتے ہیں.
اور میری زندگی میں یہ دونوں واقعات ماہ اپریل میں ہی ہوئے یعنی میں نے محبت کرنے کا گُر بھی اسی ماہ میں سیکھا اور بچھڑنے کا دکھ اور ظلم برداشت کرنے کے تجربات بھی اسی ماہ میں میرے ساتھ پیش آئے.پھر اپریل میں ہی کڑی سے کڑی ملتی گئی ،دُور کی محبتیں قریبی قربتوں میں تبدیل ہوتی گیءں۔ اس قافلہ میں نئے لوگ شامل ہوتے گئے.
امریکہ سے افتخار نسیم افتیؔ کا جب ٹیلی فون آیا کہ وہ بھی کانفرنس کے لئے آ رہا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے فیصل آباد کے وہ سارے مناظر آ گئے جن میں افتی ؔ کو دیکھنے کی خواہش رہی .فیصلِ آباد کے مرکز گھنٹہ گھر کو جانے والے آٹھ بازا،امین پور بازار کے دال چاول اور کہچری بازار کا مشہورجہانگیر مرغ پلاؤ ۔جہانں وہ محفلوں کی جان تھا وہ صنف نازک کی صف میں بھی شامل تھا اور مردوں کو بیوقوف بنانے کا فن بھی جانتا تھا.خیر اس وقت بھی وہ معصوم تھا اور آج بھی وہ اُسی طرح بے داغ اور معصوم ہے۔اس وقت میں اسے جانتا نہیں تھالیکن جب اس نے سرعام اعلان کر دیا کہ خدا نے مجھے عام ڈگر سے ہٹ کر بنایا ہے .تو بے شمارلوگوں کی طرف سے نفرت کے تحائف اس کی نذر کیے گئے.جو اس نے قدرت کی طرف سے آنے والی آفتوں کیطرح قبول کیے.آج میں اسے جانتا ہوں افتیؔ سے اکثر کہتا ہوں.کہ جس نے افتیؔ کو محض اس وجہ سے نفرت کے ساتھ دیکھا ہے کہ وہ تیسری دنیا کی مخلوق ہونے کا اقرار کرتا ہے.تو وہ خدا کی بنائی ہوئی مخلوق سے نفرت کا اظہار کرتا ہے.
فرحت پروین جو ابن بطوطہ کا ریکارڈ توڑنے کے لئے امریکہ سے دنیا کے ٹور پر نکلی ہوئی تھی.حیدر قریشی کے رابطہ نیٹ ورک کو توڑنے میں ناکام رہیں.اور انھیں اپنا دورہ مختصر کر کے اپنے ایٹچی کیسوں کے ساتھ(جو ایک چھوٹے ٹرک میں پورے آتے ہیں) اردو ادبی کانفرنس اور مشاعروں میں شرکت کے لئے اٹلی آنا پڑا ہے.
ایک دن حیدر قریشی نے مجھے اطلاع دی کہ ایوب خاور بھی پاکستان سے آنا چاہتے ہیں.الہذ ان کے ویزا کا بندوبست کریں.مجھے ان چیزوں کا پہلے تجربہ نہ تھا. مگر اس خوشگوارتجربے سے بھی بخیر و خوبی گذر گیا، اُن کے د امادجناب ذکیؔ نے درخواستیں لکھنے کی مجھے خوب تربیت دی اور بآلاخر اٹلین ایمبسی اسلام آباد پاکستان کے ساتھ ڈھیروں خط و کتابت کے بعد آج ایوب خاورؔ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہیں.
میلان اٹلی میں متعین کونسلیٹ جنرل جناب طارق ضمیر سے ٹیلی فون پر بات ہوئی کہ آپ یوم پاکستان کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوں، انہوں نے فوراً میری دعوت قبول کی اورکہا کہ خدا نے چاہا تو میں ہر صورت اس کانفرنس میں شرکت کروں گا.ادب کے قدر دانوں میں ا ن کا خاص مقام ہے.نہایت عمدہ اور نفیس انسان ہیں.
پرویز اقبال ہالینڈ سے اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر کانفرنس کے تقریباً آدھے پروگراموں کی میزبانی کے فرائض انجام دینے کے لئے یہاں پر موجود ہیں.بشری ملک اور جمال ملک اپنے پیارے سے بیٹے کے ساتھ جرمنی سے سٹیج پر
(۳)
موجود ہیں.وعدہ پر قائم رہنے والے برطانیہ سے آنے والے مہمان رضیہ اسماعیل، تسنیم حسن اور سنہرے خوابوں والی مہ جبیں غزل انصاری کانفرنس کی رونق کو دوبالا کرنے کے لئے ہال میں موجود ہیں۔ حلقہ ادب و ثقافت کے صدر نصیر احمد ملک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے میلان میں مشاعرہ کا تمام بندوبست کیا ہے.آخر میں یونس جاوید کا شکریہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ انہوں نے عالمی امن کے لئے دعائیہ میٹنگ کا اہتمام کیا. ساکواہ اور سمواہ (sacwa and samwa) کے جنرل سیکر ٹر ی ند یم نسیم کی ہمت کی داد دینی پڑے گی . کہ دن رات ایک کر کے کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دی.میں روم میں پاکستانی ایمبسی کے ہیڈ چانسسری شہباز کھوکھر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے تعریفی کلمات سے مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے.اس سے پہلے کہ میں ابتدائیہ کا اختتام کروں آپ سب سے اپیل کرو ں گا کہ حیدر قریشی کی صحت کے لئے دعا کریں.جو چار دن پہلے خرابی صحت کی وجہ سے جرمنی کے ایک کلینک میں داخل ہوئے ہیں اور اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتے.انہوں نے جس انداز میں کانفرنس کو پُر معانی اور خو بصورت بنانے میں میری مدد کی، وہ ناقابل فراموش ہے. آئیں ہم سب مل کر دعا کریں کہ خدا اُ ن کو جلد صھت و تندرستی عطا کرے اور وہ جلد ہمارے درمیان موجود ہوں.آمین
جیم فے غوری(اٹلی)


Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »