مکالمہ
اقلیت اور
مزاحمتی
ادب
دانتے
ایلی
گیریؔ نے
ڈیوین
کامیڈی
میں
جلاوطنی
کے درد کو
اس طرح
بیان کیا
ہے۔
اپنی ہر دل
عزیز تمام
چیزیں آپ
چھوڑ دیں
گے
کیونکہ یہ
وہ تیر ہے
جو
جلاوطنی
کی کمان
میں ہے
تم جان لو
گے دوسروں
کی روٹی کا
تلخ ذائقہ
کیسا لذت
انگیز اور
کس قدر سخت
ہوتا ہے
جو
دُوسروں
کی
سیڑھیوں
پر چڑھتا
اور
اُترتا
ہے۔
لیکن آج کل
بعض
معاملات
میں
جلاوطنی
نہایت لچک
دار اور
نرم و
ملائم
ہوچکی ہے۔
خاص طور پر
انیسویں
اور
بیسویں
صدی میں جس
خوش دلی سے
جلاوطنوں
کا
خیرمقدم
بعض ممالک
میں کیا
جاتا ہے۔
اس روّیہ
نے بہت سے
ممالک میں
فرقے جنم
دئیے ہیں
اور یہ
گروہ اور
فرقے اپنے
ممالک کو
واپس
لوٹنا
نہیں
چاہتے، جب
تک اُس
نظام کا
عہد ختم نہ
ہوجائے جس
کی وجہ سے
انہیں
جلاوطن
ہونا پڑے۔
PACIFISM کی
اصلاح پر
یقین
رکھنے
والوں کا
ایمان ہے
کہ جنگ اور
تشدد کے
بغیر بھی
باہمی
اختلافات
کو دُور
کیا
جاسکتا
ہے۔ اس
اصلاح کے
حامی جنگ
مخالف اور
عدمِ تشدد
پر یقین
رکھتے اور
اُمید
کرتے ہیں
کہ دُنیا
کے تمام
مسائل
پُرامن
طریقے سے
حل کیے
جاسکتے
ہیں۔ ان
مقاصد کے
لئے وہ
ادبی
مزاحمت کا
رستہ
اپناتے
ہیں۔ اس
میں
سیاست،
معاشیات
اور سماجی
مقاصد کا
حصول
جسمانی
تشدد کے
بغیر بھی
ممکن ہے۔
بہت سے
عظیم
شعراء و
ادبا اور
مفکرین و
دانشور
اپنے
نظریات کی
وجہ سے
جلاوطن
رہے۔
یابلو
نیرودہ
چار سال تک
سپین میں
جلاوطن
رہا۔
شاعری میں
رُوحانیت
پسند حلقہ
کا ایک اہم
نام اور
برطانیہ
کا قابلِ
احترام
شاعر
لارڈبائرنؔ
اٹلی میں
ایک عرصہ
تک
خودساختہ
جلاوطن
رہا۔
فرانسیسی
شاعر و
ناول نگار
اور
رومانی
تحریک کا
نمائندہ
وِکٹر
ہیوگو بھی
چینل آلس
لینڈز میں
جلاوطن
رہا۔ آخری
مغل
تاجدار
اور اُردو
شاعر
بہادر شاہ
ظفر رنگون
میں
جلاوطن
رہے۔
بیسویں
صدی کا
جدید
اُردو
شاعر احمد
فراز چھ
سال
برطانیہ
میں
خودساختہ
جلاوطن
رہے۔
اپنے جائز
حقوق کے
لئے
پُرامن
مزاحمت
کرنے کے
لئے بعض
ادباء
شعرا نے
اپنی
زبانوں
میں ادب
تخلیق کیا
وہ
مزاحمتی
ادب
کہلایا۔
مزاحمتی
ادب کے دو
مقاصد
ہیں۔ پہلے
کا تعلق اس
مزاحمت سے
ہے جس کے
ذریعہ
اپنی
تکلیف یا
مشکل بیان
کی جاتی ہے
اور پڑھنے
والے کے
ذہن میں اس
کا شعور
اجاگر کیا
جاتا ہے۔
اس طرح
پُرامن
مزاحمت
میں
بھرپور
شرکت کے
لئے
اکسایا
جاتا ہے۔
دوسرے کا
تعلق اُن
بنیادی
اسباب اور
جوش و جذبہ
کی طرف
دُنیا کی
توجہ
مبذول
کرانا
مقصود
ہوتا ہے جن
کی وجہ سے
لوگوں کے
حقوق اور
نظریات کی
نفی کی
جاتی ہے۔
مزاحمتی
ادب بے کس
و مجبور
اور کچلے
ہوئے
لوگوں کے
لئے ایک
نہایت ہی
مؤثر
ہتھیار
ہوتا ہے جو
نہ صرف شہر
و گاؤں
بلکہ ہر
جگہ
دستیاب
ہوتا ہے۔
فلسطین کے
عظیم شاعر
محمود
درویش کو
جب اُن کی
کتاب "IMPRESSIVE BODY OF
WORK" جو اُس
نے
جلاوطنی
کے دَور
میں لکھی،
پر ڈچ
کالوز
فاؤنڈیشن
نے ایک
لاکھ یورو
کا انعام
دیا تو
فاؤنڈیشن
نے یہ
اقرار
کرتے ہوئے
محمود
درویش کے
بارے میں
کہا۔
"HE MANAGES TO HIGHLIGHT THE CONSEQUENCES OF FORCED
MIGRATION AND ALSO SHOW THE POWER OF BEAUTY IN DIFFCULT
TIMES AND HIGHLIGHTS THE POSITIVE EFECTS OF MIGRATION AND
ASYLUM POLICY."
محمود
درویش و
نایاب
پرندہ تھا
جس نے کئی
آسمان سر
کئے اور
کئی اُفق
اُس کی
اڑان میں
رہے۔ وہ
اپنی ایک
نظم جس کا
نام ’’جلاوطنی
کے بغیر
میں کون
ہوں‘‘ میں
کہتا ہے۔
اجنبی
دریا
کنارے
میں پانی
کے ساتھ
تمہارا
نام باندھ
رہا ہوں
عہدنامہ
کی کتاب
میں میرے
لئے کچھ
بھی نہیں
لکھا
پانی بھی
میرے لئے
کچھ واپس
نہیں لائے
گا
پانی میں
کسی
مدوجزر کی
جھلک نہیں
ہے
اور کوئی
لہریں بھی
نہیں اُٹھ
رہی ہیں
جو مجھے
کوئی نیا
خیال دے
سکیں
مجھے
اٹھارویں
صدی کے
فرعونؔ کے
جنگی رتھ
سے باہر
نکال لو
تب میں کیا
کرسکتا
ہوں
جلاوطنی
کے سوا اور
کوئی چارہ
نہیں
اُس رات کی
مانند
جو ٹکٹکی
باندھے
پانی کو
دیکھتی
رہتی ہے
فلسطین
میں پیدا
ہونے والی
شاعرہ
نومی
سیماب
نبیاؔ
جلاوطنی
کے درد میں
مبتلا
مزاحمتی
ادب کے
ذریعہ
احتجاج
کرتی نظر
آتی ہے۔ اس
نے ایک بار
دہشت گرد
کے نام خط
میں لکھا۔
کہ مجھے
افسوس ہے
کہ مجھے
تمہیں
دہشت گرد
کے نام سے
مخاطب
کرنا پڑ
رہا ہے
لیکن مجھے
یہ معلوم
نہیں کہ
میں کس طرح
تمہاری
توجہ اپنی
جانب
مبذول
کروں۔
حالانکہ
مجھے اس
لفظ سے سخت
نفرت ہے۔
اور پھر
اپنے
جذبات کا
اظہار
اپنی نظم ’’بنیادپرست‘‘کی
شکل میں
کیا۔
کیونکہ
آنکھ میں
مختصر سا
سایہ ہے
یہی مشکل
ہے سروں کے
اُوپر سے
ہجوم
دیکھنا
اگرچہ ہر
کوئی تیز
رفتار
لگتا ہے
لیکن
تمہیں
اپنے بھید
کی ضرورت
ہے
کیونکہ
بھید
تمہارا
دوست نہیں
ہوگا تو یک
طرفہ تسلی
تو ہوسکتی
ہے
لڑکا جو
ٹوٹی ہوئی
پنسل کے
ساتھ ہے
سکہ کے
مقابل
چاقو کے
آگے برادہ
ہے
جو ایک سرے
سے دُوسرے
تک گھماتا
ہو سکہ بار
بار لکڑی
میں گم
ہوتا ہو
فلسطین کی
معروف
ادیبہ
ڈاکٹر
سلمٰہ
جسویؔ نے
کہا تھا کہ
اگر ہم ایک
دُوسرے کو
ایک بار
پڑھ لیں تو
کبھی ایک
دُوسرے کو
قتل نہیں
کریں گے۔
اسرائیل
وزیر دفاع
موشے
دایانؔ نے
ایک بار
فدوا تو
کانؔ جو ہم
عصر
شاعروں کے
بانی
ارکان میں
سے ایک
سمجھی
جاتی ہے کی
معروف نظم
’’معروف
خواتین کی
جدوجہد
مغربی
کنارے میں‘‘
پڑھی تو اس
نے بے
اختیار اس
نظم پر
اپنے
تاثرات
بیان کرتے
ہوئے کہا
کہ یہ ایک
نظم بیس
کمانڈوز
کے برابر
ہے۔ یہ
الفاظ
مزاحمتی
ادب کی
فطرتی
طاقت کا
احساس
کرتے ہوئے
کہے گئے
تھے۔
نابلوس
میں پیدا
ہونے والی
شاعرہ کا
زیادہ
کلام 1967ء کے
بعد سماجی
احتجاج
شروع ہونے
کے ساتھ
عام قاری
تک پہنچا۔
فداوا
توکانؔ کو
بین
الاقوامی
شاعری
ایوارڈ
اٹلی کی
طرف سے ملا
اور بے
شمار
ایوارڈ
حاصل کرنے
والی
مشہور و
معروف
شاعر کی
ایک نظم کی
چند سطریں
پیش کرتا
ہوں۔
میرے لئے
کافی ہے
میرے لئے
اتنا کافی
ہے کہ میں
اپنی
سرزمین پر
موت
دیکھوں
اور یہیں
دفن ہوں
اور اس مٹی
میں پگھل
کر پھیل
جاؤں
پھر پھُول
کی طرح
زمین سے
باہر
نکلوں
میرے دیس
کے بچے اس
کے ساتھ
کھیلیں
میرے لئے
اتنا ہی
کافی ہے
کہ میں
اپنے وطن
کی گود میں
رہوں
اس طرح
جیسے مٹھی
بھر گرد
بہار کی
گھاس کی
طرح
ایک پھُول
کی مانند
جدید دَور
کے جدید
شاعر احمد
فرازؔ نے
مزاحمت
اور
جلاوطنی
کے اذیت
ناک سفر کو
یوں بیان
کیا ہے۔
یہ شرط
نامہ جو
دیکھا تو
ایلچی سے
کہا اُسے
خبر نہیں
تاریخ کیا
سکھاتی ہے
کہ رات جب
کسی
خورشید کو
شہید کرے
تو صبح اِک
نیا سورج
تراش لاتی
ہے
میں کٹ
گروں کہ
سلامت
رہوں یقیں
ہے مجھے کہ
یہ حصارِ
ستم کوئی
تو گرائے
گا
تمام عمر
کی ایذا
نصیبیوں
کی قسم مرے
قلم کا سفر
رائیگاں
نہ جائے گا
اس صدی کا
عظیم جدید
شاعر نذیر
قیصرؔ بھی
اپنے
اردگرد
پھیلے
ہوئے
مذہبی،
سیای اور
سماجی
تعصب کی
دلدل میں
دھنسے
ہوئے
مظلوم
لوگوں کو
تسلی و
اطمینان
اور ہمت
دلاتا نظر
آتا ہے۔ وہ
پُرامن
مزاحمت کا
اشارہ اور
نئی صبح کی
بشارت
دیتا ہے۔
شب کے
حصاروں
میں سحر کے
دَر کھلے
بکھرنے
والے ہیں
صبحوں کے
پر ہواؤں
میں
حصارِ ابر
سے سورج
نکلنے
والا ہے
نظر
اُٹھاؤ کہ
منظر
بدلنے
والا ہے
مزاحمت
کرتے رہنے
میں نئی
زِندگی
صبح کے
اُبھرتے
منظر کے
ساتھ لاتی
ہے اور رات
کے
اندھیرے
میں جاگتی
آنکھوں سے
خواب
دیکھنا
آنے والی
صبحوں کی
روشنی میں
انقلاب کے
ساتھ گلاب
اور راتوں
کو دریا
کنارے
ماہتاب
لاتی ہے۔
ہم اگر آج
خواب
دیکھیں گے
لوگ کل
انقلاب
دیکھیں گے
ہم گزر کر
لہو کے
موسم سے
سُولیوں
پر گلاب
دیکھیں گے
اِن
دریچوں
میں ان
سلاخوں
میں
ایک دن
ماہتاب
دیکھیں گے
ایک طویل
عرصہ سے
اپنے وطن
کی مٹی کو
ترسنے
والا
جلاوطن
شاعر و
ادیب، یا
یوں کہہ
لیجئے (Polymath)
جہدِعلم
حیدرقریشی
جو مجلہ
جدید ادب
کے ذریعہ
اردو ادب
کی بے مثال
خدمت
کررہا ہے
جو عالمی
مزاحمتی
ادب کا
تعاقب
کرتے ہوئے
اپنے وطن
میں مذہبی
تسلط کے
بھاری
بھرم پتھر
تلے دبے
ہوئے
لوگوں کی
درد سے
کراہنے کی
آواز سنتا
ہے اور دبے
لفظوں میں
احتجاج
کرتا ہے۔
جتنے سیاہ
کار تھے
نردوش
ہوگئے
ہم سر جھکا
کے شرم سے
خاموش
ہوگئے
فریاد
جتنا شور
قیامت
اُٹھا گئی
منصف
ہمارے اور
گراں گوش
ہوگئے
نیکی
ہماری ایک
بھی اُن کو
رہی نہ یاد
سب زود رنج
، زود
فراموش
ہوگئے
مذہبی
انتہاپسند
کی زد میں
آکر بے
گناہ اور
معصوم
بچوں اور
عورتوں کو
آگ میں
زندہ جلتا
دیکھ کر وہ
خود کو بھی
خاکستر
ہوتا
محسوس
کرتا ہے۔
کچھ دیر
اربابِ
اقتدار کے
ایوانوں
میں شور
برپا ہوتا
ہے اور پھر
خاموشی کے
بعد
دوبارہ سچ
کو بے آبرو
کردیا
جاتا ہے۔
پہلے آدھا
مُلک
ہمارا توڑ
دیا
باقی کو
دہشت گردی
سے جوڑ دیا
مولا! کیا
تُو نے بھی
بے بس
لوگوں کو
بے رحموں
کے رحم و
کرم پہ
چھوڑ دیا
حیدرؔ بے
حس میں
احساس
کہاں ، پھر
بھی
کچھ احساس
دلانے کو
جھنجھوڑ
دیا
یہاں پر
ایک اور
اقلیتی
شاعر و
ادیب
زکریا
غوری کا
ذکر کرنا
ضروری ہے
جس کے بارے
اس صدی کے
ایک جدید
شاعر و
دانشور نے
پچیس برس
پہلے لکھا
تھا کہ
زکریا
غوری کی
شاعری
نظریاتی
ادب میں
ایک اہم
دستاویز
کی حیثیت
رکھتی ہے
جو اُردو
کے جدید
شعری
سفرنامے
میں ایک
نئی روایت
کو جنم دے
گی۔ آج یہ
بات سچ ہے
کہ اقلیت
سے تعلق
رکھنے
والے بے
شمار شاعر
و ادیب اس
روایت کو
آگے بڑھا
رہے ہیں
اور اس
مزاحمت
میں شریکِ
سفر ہیں جس
کے ذریعہ
وہ اپنا
احتجاج
مزاحمتی
ادب تخلیق
کرکے
عالمی سطح
پر کررہے
ہیں۔ اور
انتہاپسند
دہشت
گردوں کو
امن و
انصاف اور
محبت کا
پیغام دے
رہے ہیں جو
بے گناہ
انسانوں
کو مذہبی،
سماجی،
نسلی اور
علاقائی
خانوں میں
بانٹ کر
انہیں
زندہ
جلاتے
ہیں۔
معصوم
انسانوں
کے گلے پر
چھری
چلاتے اور
قبروں سے
لاشیں
نکال کر
چوراہوں
پر لٹکاتے
ہیں اور
یوں
سمجھتے
ہیں کہ وہ
خدا سے
ثواب حاصل
کررہے
ہیں۔
بھیڑے
ریشمی
کھالیں
پہنے روتی
آنکھیں
چیختے
سائے
گلیوں میں
دندناتے
پھرتے ہیں
آوازوں کی
دُنیا میں
مجبور ہیں
دانتوں پر
ورق سجائے
یہ صدائیں
سننے والے
معبدوں
میں
بڑی ہی
نرمی سے
کھا جاتے
ہیں
قربانیاں
گزارنے
میں مگن
مجبور
آوازیں
سجدوں میں
مصروف ہیں
امن کے
جزیروں کی
تلاش میں
سرگرداں
شاعر کی اس
نظم کی چند
سطریں
دیکھیں
مجھے پٹخ
پٹخ دے
مجھے توڑ
پھوڑ دے
وحشتوں کی
وادی سے
نکال دے
امن کے
جزیروں
میں پناہ
دے
خوشی
کھانے کو
دے
مسرت
پہننے کو
دے
اگر میری
خواہشوں
کی تکمیل
نہیں
کرسکتا
تو مجھے
پٹخ پٹخ دے
مجھے توڑ
پھوڑ دے
ادب میں
جلاوطنی
اور
مزاحمت کے
عنصر کے
موضوع پر
بہت زیادہ
لکھا
جاسکتا ہے
مگر اُن
شعرا و
ادبا اور
دانشوروں
اور
مفکرین سے
معذرت
خواہ ہوں۔
جن کا
حوالہ ’’تلاش‘‘
میں صفحات
کی کمی کے
پیشِ نظر
مکالمہ
میں شامل
نہیں
کرسکا۔
آخر میں
اپنی ایک
ایک نظم ’’خودساختہ
جلاوطن‘‘
کی چند
سطریں
قارئین کی
نذر کرتا
ہوں
مَیں خود
ساختہ جلا
وطن ہوں
میں اس
زمین کے
لئے اُداس
ہوں
جہاں مذہب
کی بنیاد
پر
مجھے تعصب
کی آگ کا
شکار ہونا
پڑا
جہاں میں
دُوسرے
درجے کا
شہری تھا
جہاں میں
حقارت کے
لقب سے
پکارا
جاتا تھا
جہاں میرے
بچوں کو
نفرت ورثہ
میں ملی
ایسا کیوں
ہے اے خدا؟
میں خود
ساختہ
جلاوطن
کیوں ہوں
اے خدا!
تیرے پاس
تو جواب
ہوگا
جیم فے
غوری
sacwait@alice.it
اٹلی