Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار

 
 
 
 
  شاعری(Poetry)
 

میرے پاکستان میں کیا ہے؟
اقبال بسملؔ

مہنگائی کا طوفان یہاں ہے بجلی کا بحران یہاں ہے۔
ہر شئے کھانے پینے کی سکّت نہیں ہے لینے کی
آٹا چینی ہے نایاب سبزی گھی کا کیا حساب
رشوت اور بے ایمانی ہے تذلیل یہاں انسانی ہے
جھوٹ فریب عیاّری ہے بھوک ،افلاس بیماری ہے
ڈاکو، چور ،لٹیرے ہیں دغا باز بہتیرے ہیں
کچھ مفسد مکار بھی ہیں نیک بھی ہیں بدکار بھی ہیں
فنکار بھی ہیں دلدار بھی ہیں غدار بھی ہیں غمخوار بھی ہیں
بیدار بھی ہیں ،خوابیدہ بھی افسردہ بھی ، رنجیدہ بھی
جاہل ، کاہل ، بے دیدہ علماء ، فضلاء ، جگ دیدہ
خود غرض یہاں،مکار یہاں ہیں دھوکے باز ،عیار یہاں
خونی ،دہشت گرد بھی ہیں بے پیرے ایسے فرد بھی ہیں
خود کش حملہ آور ہیں سنگدل، بے حس ،یاور ہیں
اس میں ہیں خونخوار درندے اس میں ہیں خوشرنگ پرندے
بچّے ، بوڑھے اور جوان حیران،پریشاں جائیں کہاں؟
کہیں کوئی انصاف نہیں ذہن کوئی بھی صاف نہیں
مادر پدر یہاں آزاد کریں ہیں دنگا اور فساد
ناچیز ، ذلیل ،حقیر یہاں مسکین، امیر، فقیر یہاں
بڑی بڑی جاگیروں والے سارے رانی خاں کے سالے
صنعت کار،وڈیرے ،تاجر سب کے سب ہی فاسق و فاجر
سرمایہ دار یہاں خوشحال بے چارہ مزدور بے حال
زمینداروں کی نجّی جیلیں نو دولتیوں کی ہیں
بھیڑئیے بھیڑ کے روپ میں ہیں کئی کئی بہروپ میں ہیں
قتل ، اغوا اور دہشت گردی با ہم الفت نہ ہمدردی
املاک جلائی جاتی ہیں لاشیں بھی اٹھائی جاتی ہیں
بے بس ہے قانون یہاں مجرم،مفلوک انسان یہاں
قول و فعل میں یہاں تضاد بے جا رنجش اور عناد
بے شک ہر سو ہے اندھیرا
پھر بھی پاکستان ہے میرا

*****************************************

نئے سال کا بجٹ

نیا بجٹ ہر سال کی مانند کہتے ہیں آ نے والا ہے
دکھ دور کرے گا لوگوں کے،حل ایسا لانے والا ہے
ہر ایک ملازم کی تنخواہ ، پندرہ فیصد بڑھ جائے گی
ساتھ ہی اس کے چیزوں کی قیمت اوپر چڑھ جائے گی
ٹیکسوں کی بھر مار سے پھر، غرباء کو لوٹا جائے گا
سر سے لے کر پاؤں تک، اوکھلی میں کوٹا جائے گا
امراء ، وزراء ، سرمایہ دار ، اور سہولت پائیں گے
ملک میں صدر ، وزیر اعظم ، خوشحالی پھیلائیں گے
بجلی کا بلب جلائیں کیسے؟ ، بل اتنا آ جاتا ہے
اس پر طرہ یہ کہ ہر دم ریٹ بڑھایا جاتا ہے
بجلی گیس کے نرخ بڑھا کر ،لوگوں کو تڑپائیں گے
پٹرول ، تیل اور ڈیزل تو یہ لوگوں پر چھڑکائیں گے
لوگ مریں گے بھوکے پیاسے، پروا پھر کس بات کی ہے
ہر دن فکر انہیں تو رہتی بس اپنی ہی ذات کی ہے
بجٹ کی ر’و سے تنخواہ میں چند سکّے جو بڑھ جائیں گے
وہ بھی ٹیکسوں کی صورت میں حاکم ہی لے جائیں گے
تنخواہ دار طبقہ بجٹ بنانے والوں کو تب روئے گا
بیٹھ کے گھر کے کونے میں وہ اشکوں سے منہ دھوئے گا


Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »