Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار

 
 
 
 Sports
 

ورلڈ کپ کے لیے اعلان کی گئی پاکستان ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا مورال بلند ہے اور پاکستان ٹیم ضرور سیمی فائنل تک پہنچے گی۔

شاہد آفریدی نے یہ بات لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس اور ٹیم مینیجر انتخاب عال بھی موجود تھے۔
پاکستان کی ٹیم آج (جمعرات کو) ڈھاکہ روانہ ہو رہی ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی نیوزی لینڈ کے خلاف پرفارمنس بہت اچھی رہی ہے اور لڑکوں کے مورال بلند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم مثبت سوچ کے ساتھ ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں۔
شاہد آفریدی نے پاکستان کے سابق کرکٹرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ٹی وی پر آنے سے پہلے تمام معلومات درست طور پر لینی چاہیئں۔ ان کو ٹی وی پر آ کر عوام کو بے وقوف نہیں بنانا چاہیے۔ اگر وہ دو ہزار دس کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ کس نے کتنی وکٹیں لیں اور کتنے رنز سکور کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان سابق کھلاڑیوں کو پاکستان ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔
ورلڈ کپ کے لیے کپتان کے اعلان میں تاخیر کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی نے کہا یہ فیصلہ چیئرمین نے کرنا تھا اور تاخیر کے بارے میں وہ ہی صحیح طور پر بتا سکتے ہیں۔ مجھے تو وکی بھائی (وقار یونس) نے کہا تھا کہ کھیل پر توجہ دو۔
نیوزی لینڈ کے دورے کے متعلق انہوں نے کہا کہ ٹاس میچ کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ کنڈیشنز اور ان کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے سے میچ کا فیصلہ ہوتا ہے۔
نوجوان کھلاڑی جنید خان کی ٹیم میں شمولیت کے بارے میں شاہد آفریدی نے کہا کہ انڈر 19 کے عہدیداروں نے جو اس کھلاڑی کے بارے میں بتایا ہے کہ جنید ایک اچھے کھلاڑی ہیں۔ اگر کوئی خامیاں ہوئیں تو وقار یونس جنیدخان کی مدد کریں گے۔

پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم فائنل میں
چین کے شہر گوانگ زو میں جاری ایشن گیمز میں خواتین کے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان جاپان کو نو وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔

گولڈ میڈل کے لیے جمعہ کو فائنل میں پاکستان کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوگا جس نے سیمی فائنل میں چین کو شکست دی ہے۔
جمعرات کو سیمی فائنل میں جاپان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ بیس اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر اکسٹھ رنز بنائے۔
جاپان کی جانب سے ایما کیوربیاشی نے چوبیس رنز بنائے۔ انہوں نے نیپال کے خلاف ہاف سنچری سکور کی تھی۔
پاکستان نے باسٹھ رنز کا ہدف دس اعشاریہ چار اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر پورا کر لیا۔
پاکستان کی آؤٹ ہونے والی کھلاڑی جاوریا ودود تھیں جنھوں نے انتیس رنز بنائے۔
ندا راشد نے انتیس گیندوں پر ستائیس رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہیں۔
دوسرے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش نے چین کو نو وکٹوں سے شکست دے دی۔
چین نے پہلے کھیلتے ہوئے سولہ اعشاریہ پانچ اوورز میں صرف چونتیس رنز بنائے۔ بنگلہ دیش نے چھ اعشاریہ پانچ اوورز میں پینتیس رنز بنا کر میچ نو وکٹوں سے جیت لیا۔
کانسی کے تمغے کے لیے چین اور جاپان کے مابین مقابلہ ہو گا۔

Test Match Series: Pakistan v South Africa
12-11-2010 at Dubai, Day 3 of 5

In Play

South Africa won the toss and decided to bat

380 all out (123.0 overs)
16 for 0 (2.3 overs)

248 all out (95.0 overs)

 

South Africa 1st Innings - All out

 
 
Runs
Balls
4s
6s
Gm Smith c Umar b Riaz
100
152 8 0
Petersen c Younus b Rehman
67
118 9 0
Amla c Adnan Akmal b Riaz
80
152 7 0
Kallis c Adnan Akmal b Ajmal
73
156 6 0
P Harris c Younus b Gul
0
29 0 0
de Villiers
 
b Gul
5
19 0 0
Prince lbw b Gul
1
6 0 0
Boucher lbw b Rehman
9
24 1 0
J Botha
 
b Rehman
10
24 1 0
Steyn not out
 
10
42 0 0
M Morkel lbw b Ajmal
10
19 1 0
Extras
 
3nb 1w 9b 2lb 15
 
Total
 
all out 380 (123.0 ovs)

Bowler
O
M
R
W
Gul 30.0 4 100 3
Riaz 18.0 3 61 2
Rehman 32.0 2 101 3
Ajmal 35.0 6 95 2
Hafeez 1.0 0 1 0
Younus 7.0 2 11 0
 
Fall of wicket
 
153 Petersen
190 Gm Smith
307 Amla
318 P Harris
327 de Villiers
329 Prince
345 Boucher
347 Kallis
363 J Botha
380 M Morkel

Pakistan 1st Innings - All out

 
 
Runs
Balls
4s
6s
Hafeez c Gm Smith b P Harris
60
89 7 0
Umar lbw b M Morkel
42
129 3 0
Azhar c Amla b M Morkel
56
172 5 0
Younus c de Villiers b J Botha
35
85 3 0
Misbah c Amla b J Botha
9
38 1 0
U Akmal c Steyn b J Botha
4
5 0 0
Adnan Akmal c Boucher b Steyn
10
26 1 0
Rehman c de Villiers b M Morkel
1
5 0 0
Gul not out
 
12
13 1 1
Riaz c Boucher b M Morkel
5
4 1 0
Ajmal c Boucher b M Morkel
2
4 0 0
Extras
 
12lb 12
 
Total
 
all out 248 (95.0 ovs)

Bowler
O
M
R
W
Steyn 18.0 3 58 1
M Morkel 21.0 7 54 5
P Harris 25.0 7 47 1
Kallis 8.0 3 16 0
J Botha 23.0 6 61 3
 
Fall of wicket
 
105 Hafeez
111 Umar
176 Younus
196 Misbah
202 U Akmal
220 Adnan Akmal
225 Rehman
228 Azhar
246 Riaz
248 Ajmal

South Africa 2nd Innings

 
 
Runs
Balls
4s
6s
Petersen not out
 
7
5 1 0
Gm Smith not out
 
9
10 1 0
Extras
 
  0
 
Total
 
for 0 16 (2.3 ovs)

Bowler
O
M
R
W
Gul 1.3 0 11 0
Younus 1.0 0 5 0
 
Fall of wicket
 


Umpires: E A R de Silva, D J Harper, A J Pycroft, Ahsan Raza
Pakistan: Umar, Hafeez, Younus, Azhar, Misbah (C), U Akmal, Adnan Akmal (W), Rehman, Riaz, Gul, Ajmal
South Africa: Gm Smith (C), Petersen, Kallis, Amla, de Villiers, Prince, Boucher (W), J Botha, P Harris, Steyn, M Morkel

کھلاڑیوں پر پابندی۔ کب کیا ہوا؟
اگست کے آخری ہفتے کے اختتام پر انگلینڈ کے اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے پاکستانی کرکٹ کے کچھ کھلاڑیوں پر پیسے لے کر طے شدہ موقع پر نو بال کروانے کا الزام لگایا۔

تیس اگست کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ سٹے بازی میں ملوث تمام کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔
اٹھائیس اگست کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چوتھے ٹیسٹ کے دوران شرطیں لگانے کے فراڈ کے ملزم پینتیس سالہ مظہر مجید کو برطانوی پولیس نے فرد جرم عائد کیے بغیر ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات سنگین ہیں تاہم فی الحال یہ صرف الزامات ہی ہیں۔
انتیس اگست لارڈز میں سپاٹ فکسنگ کے سائے میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور دو سو پچیس رنز سے شکست دے کر چار میچوں کی سیریز ایک کے مقابلے میں تین میچوں سے جیت لی ہے۔
آئی سی سی نے پابندی عائد کرنے کے بعد تینوں کھلاڑیوں سے جواب طلب کیا تھا اور چودہ ستمبر کو سلمان بٹ سیمت تینوں کھلاڑیوں نے لندن میں اپنی وکیل کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نوٹس کا جواب دے دیا تھا۔
تین ستمبر کو پاکستانی کھلاڑیوں سے سے شمالی لندن کے تھانے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ تین ستمبر کو آئی سی سی نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کرکٹ کونسل کے آرٹیکل دو کی کئی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
دو ستمبر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے جو کھلاڑی حالیہ سکینڈل میں ملوث قرار دیے گئے ہیں خود ان کی درخواست پر انھیں دورۂ انگلینڈ کے باقی میچوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔
چار ستمبر پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو مظہر مجید کے بارے میں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک یا غیر قانونی ہوسکتی ہیں اور وہ اسے صرف اپنے ایجنٹ کے طور پر جانتے تھے۔
پانچ ستمبر کو بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی اخبار نے اپنے سٹنگ آپریشن کے لیے جو کیش رقم ایک ایجنٹ کو دی تھی اس میں سے چار ہزار پاؤنڈ پولیس کو پاکستانی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کے کمروں سے ملے ہیں۔
پانچ سمتبر کو برطانوی اخبار دی نیوز آف دی ورلڈ نے انکشاف کیا کہ کرکٹ کا بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کے ایک اور کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہا ہے۔
اخبار نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے اوپنر یاسر حمید نے دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں اخبار کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
اٹھائیس ستمبر کو انگلینڈ کے حالیہ دورے پر کرکٹ ٹیم کے مینیجر رہنے والے یاور سعید عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ پچھتر سالہ یاور سعید نے کہا کہ وہ اپنے استعفے کے فیصلے پر کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن وہ کچھ عرصے سےاس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
تئیس ستمبر کو محمد آصف نے آئی سی سی کی طرف سے ان کے کھیلنے پر لگائی گئی عارضی پابندی کے خلاف کی جانے والی اپیل واپس لے لی۔
انیس اکتوبر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی طرف سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو شفاف بنانے کی وارننگ کے بعد ٹیم کے لیے ایک نئے ضابطہ اخلاق کا اعلان کیا۔
آئی سی سی نے سنیچر تیس اکتوبر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد عامر پر پابندی کے خلاف اپیلوں کی سماعت شروع کر دی ہے۔
اب اس واقعے کے دو ماہ بعد اکتیس اکتوبر کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ان کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد عامر پر پابندی کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ تیسرے کھلاڑی محمد آصف نے اپنی معطلی کے خلاف اپیل نہیں کی تھی۔

متنازعہ ویڈیو گیم کی فروخت شروع

برطانوی سیکرٹری دفاع کی جانب سے میڈل آف آنر نامی ویڈیو گیم پر پابندی کے مطالبے کے باوجود اس گیم کی فروخت شروع ہوگئی ہے۔
یہ ویڈیو گیم سنہ 2002 میں افغانستان میں طالبان کے خلاف سرگرم خصوصی افواج کی کارروائیوں کے بارے میں ہے۔
رواں برس اگست میں برطانوی سیکرٹری دفاع ڈاکٹر لیئم فاکس نے ان اطلاعات کے بعد اس گیم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا کہ اس گیم میں صارف طالبان کی جانب سے بھی لڑائی میں حصہ لے سکتا ہے۔
ڈاکٹر فاکس نے اس کھیل کوغیر برطانوی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ برطانوی فوجیوں کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کی دوبارہ منظر کشی کسی کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔
پابندی کے مطالبے پر گیم بنانے والی کمپنی الیکٹرونکس آرٹس نے کہا تھا کہ وہ اس گیم کو حقیقت کے قریب تر بنانا چاہتے ہیں تاہم بعد ازاں اکتوبر کے آغاز میں انہوں نے طالبان کے لفظ کو حزبِ مخالف سے بدل دیا تھا۔
ویڈیو گیم افغانستان میں طالبان کے خلاف سرگرم خصوصی افواج کے بارے میں ہے
اس تبدیلی کے باوجود یہ گیم اب بھی فوجی اڈوں پر فروخت نہیں کیا جا سکے گا تاہم فوجی اسے باہر سے خرید کر فوجی اڈوں میں لا کر کھیل سکیں گے۔
گیمنگ ویب سائٹ یوروگیمر کے لیے کام کرنے والے صحافی جان منکلے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں الیکٹرونکس آرٹس کی جانب سے اپنے صارفین کو طالبان کی جانب سے گیم میں حصہ لینے کی اجازت دینا ایک تشہیری حربہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ (الیکٹرونکس آرٹس) جانتے تھے کہ یہ متنازعہ ہوگا لیکن انہیں توجہ حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنا تھا اور خصوصاً اس وقت جب ان کا مقابلہ کال آف ڈیوٹی: ماڈرن وارفیئر جیسے دنیا کے سب سے بڑے برانڈ سے ہو۔

کامن ویلتھ گیمز کا شاندار اختتام

گیارہ روز قبل دلی میں شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز دلی کے جواہر لال نہرو سٹیڈیم میں رنگ و نور سے سجی ایک شاندار تقریب کے بعد ختم ہوگئے ہیں۔
اس اختتامی تقریب میں کامن ویلتھ گیمز کا پرچم سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو کے حوالے کیا گیا ہے جہاں چار برس بعد یہ گیمز منعقد ہوں گے۔
کامن ویلتھ گیمز کے سربراہ مائیک فینل نے دلی سنہ دو ہزار دس کے ان گیمز کو ابتدائی مشکلات کے باوجود کامیاب قرار دیا ہے۔ ان گیمز کے آغاز سے قبل جن معاملات کو اجاگر کیا گیا تھا ان میں سکیورٹی، انتظامی ڈھانچہ اور چند دیگر ایشوز تھے لیکن جوں جوں دن گزرے، صورتِ حال بہتر ہوتی گئی اور اختتامی تقریب کی چکا چوند اور حسنِ انتظام کے نتیجے میں مقررین نے ان گیمز کو کامیابی سے تعبیر کیا۔
مائیک فینل نے کہا: یہ مقابلے بہت اچھے رہے ہیں، جہاں یہ گیمز ہوئے وہ جگہیں اعلیٰ معیار کی تھیں اور ایتھلیٹس خوش ہیں۔ہمیں کئی معاملات سے نمٹنا پڑا لیکن آخری نتیجہ اچھا رہا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی تیاریوں شیڈول سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے یہ گیمز دلی میں کرانے کے فیصلے پر کئی حلقوں کی جانب سے کئی سوال اٹھائے گئے تھے۔
ایتھلیٹس ویلیج اور کچھ جگہات کے بارے میں حقیقی مسائل درپیش تھے جبکہ دیگر معاملات میں پیدل چلنے کے لیے پل ٹوٹنے، ٹکٹوں کے حوالے سے صورتِ حال کا غیر واضح ہونا، کھیلوں کو دیکھنے کے لیے شائقین کا کم تعداد میں آنا اور بڑے بڑے لوگوں کا اس ایونٹ میں شرکت کے فیصلے کو بدل دینا شامل ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ دہلی ان گیمز کی میزبانی کا مستحق تھا اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں اس کا اہل بھی تھا۔

دلی: سخت سکیورٹی میں کامن ویلتھ کھیلوں کا آغاز

بھارت کے دارلحکومت دلی میں انیسویں کامن ویلتھ کھیلوں کی افتتاحی تقریب کا آغاز ہوگیا ہے۔ برطانوی شہرازہ چارلس اور صدر جمہوریہ باقاعدہ کھیلوں کا آغاز کریں گے۔
افتتاحی تقریب قومی ترانے سے شروع ہوئی۔ جس کے بعد روایتی پروگرام پیش کیے گئے۔
گلوکار ہری ہرن نے سکولی بچوں کے ساتھ سواگتم گیت گایا۔ اس نغمے سے مہمانوں کا خیر مقدم کیا گیا۔

جواہر لال نہرو سٹیڈیم عوام سے بھرا ہوا ہے اور سٹیڈیم میں زبردست لائٹ اور ساؤنڈز کا انتظام کیا گیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار مکیش کمار کے مطابق اس تقریب میں حصہ لینے کے لیے پرنس چارلس اور انکی اہلیہ کے علاوہ ہندوستان کی صدر پرتبھا پاٹل، وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی کو دلی کے اعلی سرکاری اہلکار جواہر لال نہرو سٹیڈیم پہنچے ہیں۔
سات برس جاری رہنے والی تیاریوں کے بعد اتوار تین اکتوبر سے بھارت کے دارالحکومت نئی دلّی میں انیسویں دولت مشترکہ کھیلوں کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے اور اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
دلّی شہر کو ایک چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، چپّے چپّے پر جدید ترین اسلحہ سے لیس سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور شہر کے تمام کاروباری مراکز آج بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کے سہیل حلیم کے مطابق بھارتی تاریخ کے اس سب سے بڑے سپورٹس ایونٹ کے منتظمین نے ایک ایسی رنگارنگ افتتاحی تقریب کا وعدہ کیا ہے جسے دیکھ کر لوگ گزشتہ چند مہینوں کی تلخیوں کو بھول جائیں گے۔ بھارتی منتظمین کو ان کھیلوں کے انتظامات کےحوالے سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

کھیلوں کا افتتاح برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور بھارتیہ صدر پرتیبھا پاٹل مشترکہ طور پر کریں گے۔ پرنس چارلس ملکہ الزبتھ کا پیغام پڑھ کر سنائیں گے جس کے بعد صدر پاٹل کہیں گی ک

 کھیل شروع کیے جائیں۔
گیمز کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے جن میں تین ہزار سے زیادہ کمانڈوز شامل ہیں۔ دلّی پولیس کے کمشنر وائی ایس ددوال کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فول پروف ہے اور دلّی پولیس کا ہر افسر ہمہ وقت ڈیوٹی پر ہے۔

ریاستی حکومت کا عوام کے لیے پیغام یہ ہے کہ اگر بے انتہا ضروری نہیں تو گھر پر ہی رہیں۔ افتتاحی تقریب کے یے بہت سی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جس کی وجہ سے سنیچر سے ہی سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔
دلّی میں بی بی سی کے نامہ نگار راہول ٹنڈن کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گداگروں اور کچی آبادیوں کے کچھ مکینوں کو ان مقابلوں کے دوران دلّی شہر سے باہر بھیج دیا گیا ہے تاہم حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
ان کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں سات ہزار سے زیادہ لوگ حصہ لیں گے اور اس تقریب میں ہندستان کی قدیم تہذیب و ثقافت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک جھلک پیش کی جائے گی۔ آسکر انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان وہ گیت پیش کریں گے جو انہوں نے دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے تیار کیا ہے۔
یہ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی تاریخ میں اب تک کے سب سے مہنگے کھیل ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان پر دس ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے۔ تاہم ان اخراجات کے باوجود یہ کھیل اپنے انتظامات سے زیادہ تعمیراتی کاموں میں تاخیر، رشوت ستانی کے سکینڈلز اور ناقص رہائشی انتظامات کی وجہ سے زیادہ خبروں میں رہے ہیں۔

کامن ویلتھ گیمز، پاکستانی امیدیں
عبد الرشید شکور

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان سات کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے لیکن تمغے کی امید صرف ویٹ لفٹنگ میں کی جا رہی ہے کیونکہ باقی کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں اور آفیشلز نے پہلے ہی ہاتھ اٹھا لیے ہیں کہ ہم سے کسی غیرمعمولی کارکردگی کی توقع نہ رکھی جائے۔
دلی میں ٹینس کھلاڑی اعصام الحق سب کی توجہ کا مرکز ہونگے جنہوں نے حال ہی میں یوایس اوپن کے مکسڈ اور مینز ڈبلز فائنلز کھیل کر ایک نیا باب رقم کیا ہے تاہم وہ بھی گلے شکوے اور کسی دعوے کے بغیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے دلی گئے ہیں۔
اعصام الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر مایوسی ظاہر کی کہ پاکستان نے ٹینس ایونٹ میں چار کے بجائے صرف دو کھلاڑیوں کی انٹری بھیجی ہے حالانکہ چار کھلاڑیوں کو بھارت بھیجنے پر بہت زیادہ اخراجات نہیں آتے۔
پچھلے بارہ سال سے وہ اور عقیل خان ہی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن سسٹم نہ ہونے کےسبب نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ سکے ہیں جس کی ایک بڑی مثال کامن ویلتھ گیمز کے تیاری کیمپ کی ہے جس میں ان کے اور عقیل خان کے علاوہ کوئی تیسرا کھلاڑی موجود نہ تھا
اعصام الحق
اعصام الحق نے کہا کہ عقیل خان پچھلے تین ماہ سے کوئی میچ نہیں کھیلے جس کے سبب ان کی عالمی رینکنگ نہیں ہے اسی وجہ سے پاکستان کو سیڈنگ نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی راؤنڈ میں اس کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوگا لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں اور ملک کے لیےتمغہ جیت سکیں۔
اعصام الحق نے کہا کہ پچھلے بارہ سال سے وہ اور عقیل خان ہی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن سسٹم نہ ہونے کےسبب نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ سکے ہیں جس کی ایک بڑی مثال کامن ویلتھ گیمز کے تیاری کیمپ کی ہے جس میں ان کے اور عقیل خان کے علاوہ کوئی تیسرا کھلاڑی موجود نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کیمپ ہی میں نوجوان کھلاڑی ہوتے تو وہ ان کھلاڑیوں کو کچھ سکھا سکتے تھے اور انہیں بھی پریکٹس ملتی۔
سنہ انیس سو پچانوے میں بھارت میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیم

ز( سابقہ سیف گیمز) میں انہوں نے گولڈ میڈل جیتا تھا اور وہ پوری کوشش کرینگے کہ اس بار بھی چورانوے کلوگرام کیٹگری میں نئے ریکارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتیں
شجاع الدین
اعصام الحق نے کہا کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کو چاہیے کہ ان کی حالیہ کارکردگی کو وہ کیش کرائے اور حکومت اور نجی سیکٹر سے اس کھیل کے لیے سہولتیں حاصل کرے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور انہیں ٹریننگ اور مقابلوں میں شرکت کے لیے باہر بھیجا کیونکہ یہاں ہمیشہ فنڈز کی کمی کا ہی سننے میں آتا ہے۔
چار سال قبل میلبرن میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز طلائی تمغہ جیتنے والے ویٹ لفٹر شجاع الدین ملک سے کھیلوں کے ارباب اختیار نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے اور شجاع الدین ملک نے دلبرداشتہ ہوکر ایک سال کے لیے ویٹ لفٹنگ چھوڑ دی لیکن اب وہ بھارتی سرزمین پر گولڈ میڈل جیتنے کی دیرینہ خواہش کے ساتھ دلی گئے ہیں۔
شجاع الدین ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ انیس سو پچانوے میں بھارت میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز( سابقہ سیف گیمز) میں انہوں نے گولڈ میڈل جیتا تھا اور وہ پوری کوشش کرینگے کہ اس بار بھی چورانوے کلوگرام کیٹگری میں نئے ریکارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتیں۔
شجاع الدین ملک کو افسوس ہے کہ حکومتی سطح پر ویٹ لفٹنگ پر کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی البتہ وہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
یہ پہلا کوچ ہے جو مقابلے میں شرکت سے پہلے ہی ہمت ہار بیٹھا ہے شاید اس لیے کہ ہالینڈ اور بیلجیئم کے خلاف پاکستانی ٹیم کو بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا
اصلاح الدین
پاکستانی ہاکی ٹیم اپنے ڈچ کوچ کے اس بیان کے ساتھ دلی گئی ہے کہ گولڈ میڈل کی توقع نہ رکھی جائے۔
پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان اور منیجر اصلاح الدین کہتے ہیں کہ یہ پہلا کوچ ہے جو مقابلے میں شرکت سے پہلے ہی ہمت ہار بیٹھا ہے شاید اس لیے کہ ہالینڈ اور بیلجیئم کے خلاف پاکستانی ٹیم کو بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے باوجود اصلاح الدین کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم گولڈ میڈل جیت سکتی ہے کیونکہ اس کا اصل مقابلہ صرف آسٹریلیا سے ہے اور پاکستانی ٹیم میں بھی تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جنہیں کم ازکم اس ایونٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

THE News of the World has smashed a multi-million pound cricket match-fixing ring which RIGGED the current Lord's Test between England and Pakistan

In the most sensational sporting scandal ever, bowlers Mohammad Amir and Mohammad Asif delivered THREE blatant no-balls to order.

Their London-based fixer Mazhar Majeed, who let us in on the betting scam for £150,000, crowed "this is no coincidence" before the bent duo made duff deliveries at PRECISELY the moments promised to our reporter

Armed with our damning dossier of video evidence, Scotland Yard launched their own probe into the scandal.

Millions around the world watched Pakistan star bowlers Mohammad Amir and Mohammad Asif deliver three no-balls in the Test against England on Thursday and Friday at the historic home of cricket, Lord's in London.

Unsuspecting fans packed the ground yesterday to watch Pakistan collapse as they were bowled out for 74 in their first innings and forced to follow on.

But today our shock footage of the players' fixer Mazhar Majeed taking a massive £150,000 cash, and telling us EXACTLY when the no-balls would come, proves the game was RIGGED.

Having already trousered a £10,000 upfront deposit - which he insisted had gone to the stars - Majeed sat in our west London hotel room at the Copthorne Tara on Wednesday night and eagerly counted out the £140,000 balance in bundles of crisp £50 notes - our "entry ticket" into his already successful betting scam.

Our undercover team was posing as front men for a Far East gambling cartel. In return for their suitcase of money Majeed then calmly detailed what would happen - and when - on the field of play next day, as a taster of all the lucrative information he could supply in future.

He promised: "I'm going to give you three no-balls to prove to you firstly that this is what's happening. They've all been organised, okay?

"This is EXACTLY what's going to happen, you're going to SEE these three things happen. I'm telling you, if you play this right you're going to make a lot of money, believe me!"

We can sensationally reveal Majeed identified young Pakistan captain Salman Butt as the ringleader of the band of cheats. He also named wicket keeper Kamran Akmal and boasted he had a total of SEVEN corrupt cricketers in his pocket, all banking huge sums from bookies and betting syndicates.

The scam, fuelled by greed, is a betrayal by the players not only of their sport but of their cricket-crazy homeland.

As millions back home in Pakistan struggle against hunger and disease amid devastating floods, the cheats were defiling the reputation of Lord's and lining their own pockets.

In a meeting with our investigators puppet-master Majeed:

  • BRAGGED that the scam is rife and future games against England this summer are already earmarked for cheating.
  • CONFESSED his match-fixing round the world had netted customers MILLIONS.
  • REVEALED how he oversees cheating by using no-balls, specifying how many runs will be scored or conceded in certain overs, with signals such as changing gloves to confirm the fix is on.
  • ADMITTED he abuses his position as owner of non-league Croydon Athletic FC to launder his illicit gains.

At one stage Majeed told us our syndicate could make "absolutely millions, millions" by paying him up to £450,000 a time for info on matches, then placing bets on the fixed outcome. And he tried to excuse the players' shameful behaviour, claiming: "These poor boys need to. They're paid peanuts."

Majeed said he had even opened Swiss bank accounts for them to hide their ill-gotten gains. We launched our investigation two weeks ago after a tip-off. The Pakistan side has long been dogged by match-fixing allegations. Only today has the full shocking extent been laid bare.

Property tycoon Majeed, 35, has a £1.8 million home in Surrey and is a familiar face at cricket grounds around the world. We infiltrated his criminal network posing as wealthy businessmen on the make.

Majeed turned up for our first meeting on Monday, August 16, at the Hilton in London's Park Lane, dressed in jeans and a sweater. He immediately started bragging of his connections with the Pakistani team. "I manage ten of the players," he told us. "I do all their affairs like contracts, sponsorship, marketing, everything. I work very closely with the PCB (Pakistan Cricket Board)."

Our reporters told him they wanted to organise their own Twenty20 tournament in the Middle East. Majeed claimed he would be able to provide his players for the right fee. When our man assured Majeed the players would do well out of it, he immediately said with a wink: "I know what you're talking about because I know what goes on!"

Majeed then hinted at the extent of cheating in the game. . .

REPORTER: "If there's two or three that are on for the other side, the betting side, then good luck - they'll be really happy."

MAJEED: "There's more than two or three. Believe me. It's already set up. That's already there. I'm very wary speaking about this simply because I don't know you guys. I've been dealing with these guys for seven years, okay? Who we deal with and how we deal with it is very, very important. This is the main thing. I'm only dealing with certain people. How we do it and what we do is very, very crucial."

REPORTER: "You're already dealing with another party on this matter? Give us some tips as well if you've got any. Happy to cut us in?"

MAJEED: "Yeah I'll give you tips."

REPORTER: "If there's anything we need to know in the forthcoming match let me know. Happy to pay."

Majeed said he was worried our men could be wearing tape recorders and he would check them out before going further.

Two days later at the Bombay Brasserie Indian restaurant in central London, Majeed told us we had begun to gain his trust. He had spent the day at the Oval where Pakistan bowled England out for 233 on the first day of the third Test. After a trusted source vouched for our credentials, Majeed relaxed and laid his cards on the table. . .

MAJEED: "I do feel that I can speak to you about this, okay? Now, yes. . . there is very big money in it."

REPORTER: "There's still? I know there was, but they clamped down on match fixing I heard."

MAJEED: "They've toned down match-fixing a lot, yeah. They've made it very, very difficult. These guys won't deal with just anybody. The only reason they'll deal with me is because they know I'm professional, they've known me for years.

"I've been doing it with them, the Pakistani team, for about 2½ years. And we've made masses and masses of money."

Later that night Majeed boasted how it was the players who got HIM into match-fixing. He told us: "The players would never tell anybody else. They were the ones who actually approached me about this. This is the beauty of it.

"I was friends with them for four, five years and then they said this happens. I said really?"

Majeed then described how the betting scam operates. He reached into a carrier bag, pulled out a white BlackBerry phone and flicked through a series of messages.

"I deal with an Indian party," he said. "They pay me for the information."

Then Majeed explained how many cricket bets are placed on what he called "brackets" - events happening in a group of 10 overs.

If players score well in the first three overs punters would be likely to bet on that continuing for the next seven. But if the fixed players then deliberately STOP scoring or slow down, anybody in on it can "make a killing", said Majeed. The same happens with bowlers giving away runs or throwing no-balls.

Not only is Majeed's information invaluable to syndicates involved in spread betting - where wagers are staked on a range of possible outcomes - it is also golddust for shady bookies looking to manipulate the odds in their favour.

The following night - Thursday August 19 - Majeed demanded £10,000 then revealed to us there would be two no-balls in the following day's Oval play.

That fix was cancelled on the day. So was a promised maiden over by captain Salman Butt on the Saturday - final day of the Test England lost. But days later - with our extra £140,000 in his hands - he delivered the promised goods at Lord's.

Last night a Scotland Yard spokesman said: "Following information from the News of the World we have today arrested a 35-year-old man on suspicion of conspiracy to defraud bookmakers."

Scotland Yard officers last night visited Lord's and the Pakistan players' London hotel. Police are set to speak to the players today.

In a joint statement issued early today, the International Cricket Council, the England and Wales Cricket Board and the Pakistan Cricket Board confirmed the Test would resume today as planned.

The statement added all three bodies were assisting the police with their inquiries, but as the matter was under investigation they would not be making any further comment.

اوول ٹیسٹ: پاکستان چار وکٹ سے جیت گیا

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان اوول میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو چار وکٹ سے شکست دے دی ہے۔
اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں دو سو بائیس رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی اور اُس نے پاکستان کو جیتنے کے لیے ایک سو اڑتالیس رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے سلمان بٹ نے سب سے زیادہ اڑتالیس رنز بنائے۔
پاکستان کے دوسرے نمایاں بلے باز محمد یوسف رہے، انہوں نے تینتیس رنز بنائے۔
انگلینڈ کی جانب سے گراہم سوان نے تین اور اینڈرسن نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ایک سو اڑتالیس رنز کے تعاقب میں پاکستان کی پہلی وکٹ پانچ رنز کے مجموعی سکور پرگری جب حمید بغیر رن بنائے انڈرسن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔
ستاون رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی دوسری وکٹ گری جب عمران فرحت تینتیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ایک سو تین رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی تیسری وکٹ گری جب کپتان سلمان بٹ اڑتالیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ایک سو چوبیس رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی چوتھی وکٹ گری جب اظہر علی پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ایک سو اکتیسں رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی پانچویں وکٹ گری جب محمد یوسف تینتیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ایک سو بتیس رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی چھٹی وکٹ گری جب کامران اکمل بغیر کوئی سکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی اننگزکی خاص بات ایلسٹر کک کی سنچری تھی۔ وہ ایک سو دس رنز بنا کر آٰؤٹ ہوئے۔
پاکستان نے پہلی اننگز میں پچھتر رنز کی برتری حاصل کی تھی۔
پاکستان کی جانب سے محمد عامر نے پانچ اور سعید اجمل نے چار وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں انگلینڈ کے دو سو تینتیس رنز کے جواب میں تین سو آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔
انگلینڈ کی طرف سے گراہم سوان نے چار، اینڈرسن اور براڈ نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اس میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
چار میچوں کی سریز میں انگلینڈ کو دو ایک کی برتری حاصل ہے۔
ٹرینٹ برج میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی ٹیم نے پاکستان کو تین سو چون رنز کے واضح فرق سے شکست دی تھی۔
ایجبیٹسن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو نو وکٹوں سے شکست دے تھی۔
انگلینڈ کی ٹیم: اینڈریو سٹراس ( کپتان )، الیسٹر کک، جوناتھن ٹراٹ، کیون پیٹرسن، پال کولنگ وڈ، این مورگن، میٹ پرائر، گریم سوان، سٹورٹ براڈ، جیمز اینڈرسن اور فن
پاکستان کی ٹیم: یاسر حمید، عمران فرحت، سلمان بٹ ( کپتان)، محمد یوسف، اظہر علی، عمر اکمل، کامران اکمل، محمد عامر، محمد آصف، وہاب ریاض اور سعید اجمل

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اوول میں تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں کھانے کے وقفے کے بعد سات وکٹ کے نقصان پر دو سو باسٹھ رن بنا لیے ہیں۔

محمد یوسف نے پراعتماد انداز میں کرکٹ کے میدان پر واپسی کی

اس وقت پاکستان کو انگلینڈ پر انتیس رن کی برتری حاصل ہے اور اظہر علی اور محمد عامر کریز پر موجود ہیں۔ اظہر علی نصف سنچری مکمل کر چکے ہیں۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات محمد یوسف کی نصف سنچری تھی، وہ چھپن رنز بنانے کے بعد گریم سوان کا تیسرا شکار بنے۔

دوسرے دن پاکستان کو افتتاحی اوور میں ہی دوسری وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اوپنر یاسر حمید تھے جو اپنے انفرادی سکور میں کوئی اضافہ کیے بغیر فِن کی دوسری ہی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہو گئے۔

گریم سوان نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے

انہوں نے چھتیس رنز بنائے۔ کپتان سلمان بٹ سترہ رن بنا سکے، انہیں سوان نے آؤٹ کیا۔ آؤٹ ہونے والے چوتھے پاکستانی کھلاڑی نائٹ واچ مین وہاب ریاض تھے جو ستائیس رن بنا کر گریم سوان کا دوسرا شکار بنے۔

گزشتہ روز جب کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں کھیل ختم ہونے تک ایک وکٹ کے نقصان پر اڑتالیس رن بنائے تھے۔

اس سے قبل پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے وہاب ریاض کی عمدہ بالنگ کی بدولت انگلینڈ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں دو سو تینتیس رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ وہاب ریاض نے اپنے پہلے ہی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد آصف نے تین اور محمد عامر اور سعید اجمل نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ایک موقع پر انگلینڈ کی سات وکٹیں صرف چورانوے رنز پر گر چکی تھیں تاہم میٹ پرائر اور آل راؤنڈر سٹورٹ براڈ کے درمیان ایک سو انیس رنز کی شراکت کی بدولت انگلش ٹیم دو سو تینتیس رنز بنانے میں کامیاب رہی۔

انگلینڈ کی ٹیم: اینڈریو سٹراس ( کپتان )، الیسٹر کک، جوناتھن ٹراٹ، کیون پیٹرسن، پال کولنگ وڈ، این مورگن، میٹ پرائر، گریم سوان، سٹورٹ براڈ، جیمز اینڈرسن اور فن

پاکستان کی ٹیم: یاسر حمید، عمران فرحت، سلمان بٹ ( کپتان)، محمد یوسف، اظہر علی، عمر اکمل، کامران اکمل، محمد عامر، محمد آصف، وہاب ریاض اور سعید اجمل

 

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ اوول میں شروع ہوا ہے جس میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ انگلینڈ کی چورانوے رن پر سات وکٹیں گر چکی تھیں۔

پاکستان کی طرف سے پہلا میچ کھیلنے والے وہاب ریاض نے چار، محمد آصف نے دو اور محمد عامر نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا ہے۔ انگلینڈ کی طرف سے بیٹنگ کا آغاز کپتان سٹراس اور کک نے کیا تھا۔

کک چھ رن بنانے کے بعد ہی محمد آصف کی ایک گیند پر وہ کامران اکمل کے ہاتوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ جب کک آؤٹ ہوئے انگلینڈ کا سکور پندرہ تھا۔ جب ٹیم کا سکور پینتیس ہوا تو کپتان سٹراس نئے بالر وہاب ریاض کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے پندرہ رن بنائے تھے۔

چالیس کے سکور پر جانتھن ٹراٹ بھی وہاب کی گیند پر آؤٹ ہو گئے اور اس کے کچھ ہی دیر کے بعد ٹیم کے کل سکور سینتالیس پر کالنگوڈ بھی محمد عامر کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس کے بعد پیٹرسن آؤٹ ہوئے جنہوں نے چھ رن بنائے تھے۔

انگلینڈ کی چھٹی اور ساتویں وکٹ باالترتیب چوہتر اور چورانوے پر گری تھیں۔

انگلینڈ کی ٹیم: سٹراس، ( کپتان ) کوک، ٹراٹ، پیٹرسن، کولنلگ وؤڈ، ای مورگن، پریئر، سوان، براڈ، اینڈرسن اور فن جیسے کھلاڑیوں پر شامل ہے۔

پاکستان نے اس بار کئی تبدیلیاں کی ہیں ۔ ٹیم حمید، عمران فرحت، سلمان بٹ ( کپتان)، محمد یوسف، اظہر علی، عمر اکمل، کامران اکمل، محمد عامر، محمد آصف، ریاض اور اجمل سعید پر مشتمل ہے۔

 

 


Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »