Amenews  آمین

AsianMinoritiesExpressNews  

                                                                                               ایشین اقلیتوں کا انٹرنیٹ اخبار
 
 
 

Urdu Adabi Seminar Italy+Switrzerland

 

اٹلی میں تین روزہ اردو ادبی سمینار اور مشاعرے اور سوئیٹرزلینڈ کا یادگار مشاعرہ
پرویز اقبال

مغربی دینا میں اردو ادب و زبان کو فروغ دینے اور اردو لکھنے ،پڑھنے اور بولنے والو ں میں بین لاقوامی طو پرامن و یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے عالمی سطح پر مجلسِ مسیحی مُصنفین جنوبی ایشیا (اٹلی) نے بہ اشتراک حلقہِ اربِ ذوق(اٹلی) مجلسِ اقلیتی مُصنفین جنوبی ایشیا (اٹلی) اور حلقہِ ادب و ثقافت(اٹلی)جولائی۲۱ سے۲۸، ۲۰۱۰ ؁ کو جناب جیم فے غوری کی سرپرستی میں اٹلی میں اپنی نوعیت کا منفرد اردو ادبی سمینار ،عالمی مشاعرے اور سوئیٹرزلینڈمیں یادگار مشاعرہ کا اہتمام ہوا.جس میں عالمی سطح پر معروف و مشہور شعراء و ادباء ، دانشوروں اور مفکرین نے شرکت کی۔ اٹلی میں پاکستان کے کونسلیٹ جنرل (میلان) جناب طارق ضمیر اور فیڈنسا شہر کے سٹی میئر جناب جوزپئے چیری نے اس سمینار اور پاکستان ڈے میں شرکت فرما کر اسے یادگار بنا دیا۔ پاکستان سے ایوب خاور، عزیزہ خاور، زاہرہ خاور، عاشی مریم، امریکہ سے ڈاکٹر افضال فردوس، ڈاکٹر افتخار نسیم افتی ؔ اور فرحت پروین، برطانیہ سے ڈاکٹر رضیہ اسماعیل، ماہ جبین غزل انصاری، تسنیم حسن،جرمنی سے بشریٰ ملک، پروفیسر ڈاکٹر جمال ملک، ہالینڈ سے پرویز اقبال اور اٹلی سے جیم فے غوری، ملک نصیر احمد،صوفی اشرف،الیاس مہر،امجد فاروق، افق جعفری ، فوزیہ علی کھر،رضا شاہ ،محمد شریف چیمہ اور ڈاکٹ�آاصف نے خصوصی شرکت کی اور میلان، اٹلی اور سو ئٹزرلینڈ کے شاندار مشاعروں نے سمینار کو ایک تاریخی تقریب میں تبدیل کر دیا۔
سمینار کا پہلا دن: دوپہر دو بجے ڈاکٹر افضال فردو س اور ڈاکٹر افتخار نسیم افتی ؔ کی دعا سے شروع ہوا، فیڈنسا شہر کے سٹی میئر جوزیئے چیری کو خوش آمدید کہا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اس کے بعدسمینار کے آگنائزر اور حلقہِ اربِ ذوق(اٹلی) کے بانی سیکریٹری جیم فے غوری نے تمام شرکاء کو خوش آمدیدکہا اورابتدئیہ پڑھا.دوسری نشست جو نثری نشست پر مشتمل تھی کا آغاز سہ پہرتین بجے ہوا.جس کی صدارت ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے کی. اور مہمانانِ خصوصی بشری ملک اور فرحت پروین تھیں۔جبکہ نظامت کے فرائض مہ جبین غزل انصاری نے انجام دیئے.اورنثر پارے پڑھنے والوں میں بشری ملک،رضیہ اسماعیل،ڈاکٹر افضال فردوس، ڈاکٹر افتخار نسیم افتی ؔ اور فرحت پروین، تسنیم حسن ،پرویز اقبال ، جیم فے غوری اورملک نصیر احمد شامل تھے۔
تیسری نشست ڈاکٹر افضال فردوس کے ساتھ ایک پروقار شام تھی. جس میں صاحبِ شام کے علاوہ بطورِ صدر ڈاکٹر افتخار نسیم افتیؔ اور مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر جمال ملک تھے اور نظامت کے فرائض پرویز اقبال نے انجام دیئے.مضامین پڑھنے والوں میں جیم فے غوری، پرویز اقبال،ڈاکٹر افتخار نسیم افتی ،ڈاکٹر رضیہ اسماعیل اور پروفیسر ڈاکٹر جمال ملک شامل تھے.اس نشست کے آخر میں ڈاکٹر افضال فردوس سے ان کا بپت سا کلام سنا گیا.
سمینار کا دوسرادن: دوپہر دو بجے شروع ہواجو مذاکرہ پر مشتمل تھا، جس کا موضوع تھا’’مغربی دنیا میں اردو کی صورت حال‘‘ اس مذاکرہ کی صدارت ڈاکٹر افضال فردوس نے کی اور مہمانانِ گرامی تھے پروفیسر ڈاکٹر جمال ملک، فرحت پروین اور ڈاکٹر افتخار نسیم افتیؔ اور اسٹیج سکرٹری بشری ملک تھیں.جن حضرات نے مقالات پڑھے ان کے اسمِ گرامی تھے. ۱ٹلی میں اردو کی صورت حال کے موضوع پرجیم فے غوری نے مقالہ پڑھا. ہالینڈمیں اردو کی صورت حال پر پرویز اقبال،برطانیہ میں اردو کی صورت حال پر تسنیم حسن،جرمنی میں اردو کی صورت حال پر بشری ملک،برطانیہ میں نسائی ادب کی صورت حال پر رضیہ اسماعیل،مغربی دنیا میں اردو ادب کی صورت حال پر حیدر قریشی کا مقالہ پرویز اقبال نے پڑھا . ا مریکہ میں اردو کی صورت پرڈ اکٹر افتخار نسیم افتیؔ اورا مریکہ میں اردو ادب کی صورت پر مقالہ فرحت پروین نے پڑھا جبکہ عمومی اظہار خیال ڈاکٹر جمال ملک اور ایوب خاور نے کیا.
دوسری نشست شام چھ بجے محفل مشاعرہ میلان میں منعقد ہوئی.جس کی صدارت .ایوب خاور نے کی اور مہمانانِ گرامی ڈا کٹر افتخار نسیم افتیؔ اور ڈاکٹر افضال فردوس تھے.شرکاء مشاعرہ میں اہم نام یہ تھے.ڈاکٹر افضال فردوس، ڈاکٹر افتخار نسیم افتی ؔ اور فرحت پروین، برطانیہ سے ڈاکٹر رضیہ اسماعیل، ماہ جبین غزل انصاری، تسنیم حسن،جرمنی سے بشری ملک، پروفیسر ڈاکٹر جمال ملک ،، ہالینڈ سے پرویز اقبال اور اٹلی سے جیم فے غوری،ملک نصیر احمد،صوفی اشرف،الیاس مہر،امجد فاروق، افق جعفری ، فوزیہ علی کھر،رضا شاہ ،محمد شریف چیمہ .
سمینار کا تیسرادن:حیدر قریشی کے ساتھ خاص نشست کے لیے مخصوص تھا۔لیکن تقریب سے کچھ عرصہ قبل انہیں جرمنی کے ایک کلینک میں داخل ہونا پڑا۔یوں وہ طبی وجوہات کی بنیاد پر سمینار میں شریک نہ ہو سکے۔ چنانچہ ان کی صحت یابی کی دعاکی گئی اور جیم فے غوری نے ان کے بارے مضمون پڑھا اور ایوب خاور، ڈاکٹر افضال فردوس، ڈاکٹر افتخار نسیم افتی ؔ اور فرحت پروین، برطانیہ سے ڈاکٹر رضیہ اسماعیل، ماہ جبین غزل انصاری، تسنیم حسن،جرمنی سے بشری ملک نے اظہار خیال کیا۔۲۵؍جولائی کو جب شاعروں،ادیبوں کا کارواں سوئٹزلینڈ میں تھا تو وہاں سے جرمنی کے کلینک میں خاص طور پر حیدر قریشی کی عیادت کے لیے فون کیا گیا۔جیم فے غوری،ایوب خاور اور ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے فون پر حیدر قریشی کی خیریت دریافت کی اور سیمینار کی مختصر روداد سے بھی آگاہ کیا۔حیدر قریشی نے فون پر بتایا کہ وہ اس کلینک میں قیام کے دوران اپنی تحقیق و تنقید کی ۵۵۶ صفحات کی کتاب مکمل کر چکے ہیں۔
دوسری نشست میں ڈاکٹر افتخار نسیم افتی کے ساتھ شام تھی جس کی صدارت ایوب خاور نے کی اور مہمانانِ گرامی تھے ڈاکٹر افضال فردوس ، فرحت پروین اور ڈاکٹر رضیہ اسماعیل، اس نشست کی نظامت پرویز اقبال نے کی.جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر افضال فردوس، جیم فے غوری، بشری ملک اوررضیہ اسماعیل شامل تھے.
اس دن کی دوسری نشست جشنِ آزادی پاکستان ۱۴ اگست کے حوالے سے تھی اس نشست کی صدارت کونسلیٹ جنرل پاکستان(میلان) جناب طارق ضمیر نے کی.اور مہمانانِ گرامی تھے ڈاکٹر افضال فردوس، ڈاکٹر افتخار نسیم افتیؔ اور مہ جبین غزل انصاری ، جبکہ اس پروقار تقریب میں ماہر تعلیم عزیزہ خاور اور عاشی مریم نے اقلیتی ادب اور زاہرہ خاور نے نئی نسل اور اردو کی صورت حال پاکستان میں پر اظہارِ خیال کیا. آخر میں جیم فے غوری نے تمام شرکاء کا شکریہ اظہار تشکر کی صورت میں پیش کیا.
رات کے کھانے کے بعد ایک شام ایوب خاور کے نام کا اہتمام کیا گیا .جس کی صدارت افضال فردوس نے کی اور مہمانان گرامی ڈاکٹرافتخا ر نسیم اور عزیزہ خاور تھیں۔ شرکاء شام میں افضال فردوس(امریکہ) ڈاکٹرافتخا ر نسیم (امریکہ) فرحت پروین (امریکہ)،ڈاکٹر رضیہ اسماعیل(انگلینڈ)،تسنیم حسن (انگلینڈ)،محترمہ ماہ جبیں غزل انصاری(انگلینڈ) بشری ملک(جرمنی)اور جیم فے غوری نے اظہار خیال کیا رات گئے تک کلام شاعر بہ زبان شاعر سنا گیا.یہ ایک یادگار شام تھی۔
سمینار کا چوتھادن: سوئٹزرلینڈ کے شہر رافس میں محفل مشاعرہ تھی جو زیر صدارت جناب ایوب خاور(پاکستان) ہوئی اور مہمان خصوصی جناب افضال فردوس
(امریکہ) ڈاکٹرافتخا ر نسیم (امریکہ) تھے . ان کے ساتھ خاص مہمان ریورنڈ فادر ذکریا غوری اور ان کے بھائی الیاس غوری اور فیلکس غوری تھے. جبکہ حسب معمول نظامت کے فرائض پرویز اقبال (ہالینڈ) نے کی. شرکامشاعرہ میں افضال فردوس(امریکہ) ڈاکٹرافتخا ر نسیم (امریکہ) فرحت پروین (امریکہ)،ڈاکٹر رضیہ اسماعیل(انگلینڈ)،تسنیم حسن (انگلینڈ)،محترمہ ماہ جبیں غزل انصاری(انگلینڈ) بشری ملک(جرمنی)پرویز اقبال(ہالینڈ) اور اٹلی سے ملک نصیر احمد اور جیم فے غوری ،رضا شاہ ،محمد شریف چیمہ
. سوئٹزرلینڈ میں دو دن ہمارے میزبان جناب مارٹن برون اور ان کی بیگم فلومینا برون تھیں. یہ مشاعرہ اور سوئٹزرلینڈ کی سیر صحافی اور شاعر جناب ریورنڈ فادر زکریاغوری (پاکستان ) کی پچیس سالہ پریسٹ ہڈ شپ کے اعزاز کی تقریبات کے سلسلہ کی ایک کڑی تھی ۲۷ اور ۲۸ جولائی ۲۰۱۰ ؁ کو اٹلین تاریخی مقامات کی سیر کرائی گئی .جس میں قابل ذکر رومیو جولیٹ کا گھر(۲) پانی پر آباد وینس شہر(۳) میلان شہر(۴) اور دنیاکا عجوبہ پیسا ٹاور شامل تھے۔
یہ صرف تقریب کی مختصر سی روداد ہے مکمل تفصیل حلقۂ ارباب ذوق اٹلی کی جانب سے عنقریب ایک سووینئر کی صورت میں شائع کی جا رہی ہے۔

 


 

Amenewsآمین
Asian Minorities Express News

 

 
   

 home page - index

top               «      »