زکریا
غوری،
کاہن اور
شاعر
جیم فے
غوری(اٹلی)
Zacharia Ghauri
بارہویں
صدی کا
عظیم
اطالوی
فلسفی
تھامس
اکینوسؔ
جس کی
اخلاقیات
کے نظریہ
کی بنیاد
عمل کے
اصولوں پر
اُستوار
ہے.اپنی
کتاب ’’
الہیاتِ
سوالیہ‘‘
میں لکھتا
ہے. اخلاقی
اقدار ایک
ایسی طاقت
ہے جو
اشیاء کی
تکمیل اور
خاص
طورپراُن
کے خاتمہ
پر توجہ
دیتی ہے
تاہم طاقت
کا ختم
ہونا ایک
عمل ہے.
اِس سبب سے
طاقت عظیم
کہلاتی ہے.اور
اس طرح یہ
ایک تمیز
یا امتیاز
کرنے والا
عمل بن
جاتا ہے.
تھامس
اکینوسؔ
اس کے لئے
چار بڑے
اخلاقی
اوصاف
بیان کرتا
ہے. جو
دانائی ،
اعتدال ،
انصاف اور
استحکام
پر مبنی
ہیں.یہ بڑے
اخلاقی
اوصاف
قدرتی طور
پرانسانی
فطرت میں
ظاہر ہوتے
ہیں اور یہ
ایک دوسرے
سے منسلک
ہوتے ہیں.دوسری
جانب
معنوی
موضوع اور
اخلاقی
وصف کے کچھ
جامع
انسانی
اسباب بھی
ہیں جن کی
وجہ سے
اخلاقی
اور علمی
اوساف
الہیات سے
منفرد ہیں.
مزید براں
تھامس
اکینوسؔ
چار قسم کے
اصولوں کی
شناخت
کرتا ہے.
جو باطنی ،
قدرتی ،
انسانی
اور
خُدائی
ہیں.باطنی
اصول خُدا
کا حکم ہے
جو تمام
مخلوق پر
حکومت
کرتا ہے.
قدرتی
اصول
انسانی
شراکت ہے
جو خُدائی
حکم میں
اسباب سے
دریافت
ہوتا ہے.اِن
اوصاف کا
پہلا اصول
یہ ہے کہ
اچھائی کی
جائے اور
اچھائی کو
تقویت دی
جائے اور
برائی سے
دُور رہا
جائے .
فادر
زکریا
غوری کے
روز مرہ کے
تمام تر
معمولات
اور شاعری
اسی
اخلاقی
نظریہ کی
عکاسی
کرتی ہے.بائیس
برس پہلے
جب فادر
زکریا
غوری کی
شاعری کی
کتاب ’’ امن
کے جزیرے ‘‘
کے نام سے
مارکیٹ
میں آئی تو
اردو ادبی
دنیا نے
کھلے
ہاتھو ں سے
اس
نظریاتی
شاعری کو
خوش آمدید
کہا اور
بہت سے
نوجوان
شعراء نے
اس موضوع
کو اپنایا.اُن
کی شاعری
میں نہ صرف
ہمارے
ماحول کے
اردگرد
پھیلی
ہوئی
بدحالی
اور ملکی
بدامنی
اور بے
چینی کا
نوحہ ملتا
ہے بلکہ
پوری دینا
میں ظلم و
ستم سہنے
والے
مظلوم
لوگوں کے
ساتھ گہری
ہمدردی کے
جذبات
وافر نظر
آتے ہیں.وہ
ان لوگوں
کی ترقی
اور بحالی
کو اپنا
فرض
سمجھتا ہے
اور عبادت
سے اُس کو
عشق ہے.درحقیقت
وہ
رومانیت
کے پیرائے
میں حقیقت
پسندی کے
چبوترے پر
کھڑا ہو
کرانسانیت
کا پرچار
کرتا ہے وہ
اپنے
اندرونی
جذبات کو
شاعری کا
رُوپ دیتا
ہے. یہی
اُس فلسفہ
کا پرچار
ہے جس میں
ایمان ،
اُمید اور
سخاوت
جیسے اہم
عنصر کو لے
کر وہ
(۲)
اپنی محبت
کا اظہار
کرتا ہے.قدرت
کے یہی بڑے
اصول اُس
کے
موضوعات
ہیں.وہ
انسانی
المیہ اور
انسان کی
عظمت پر
دھیان
دیتا ہے.اور
خُدائی
احکام کی
روشنی میں
فیصلے
کرتا ہے کہ
تیسری
دنیا کے
لاچار اور
بے کس بچوں
اور
افریقہ
میں
درختوں کے
پتوں سے
پیٹ کی آگ
بجھانے
انسانوں
کو کیسے
دلاسا دیا
جا سکتا
ہے۔
لوک
مزاحمت
تیسری
دنیا کے
بچے
صبح سویرے
اُٹھتے
ہیں
ناشتے میں
روح فرسا
خبریں
سنتے ہیں
.........روکھی
سوکھی
پانی کے
ساتھ نگل
کر
ہاتھوں
میں گندے
تھیلے لئے
بڑے
صاحبوں کے
جُوتے
پالش کرنا
شروع کر
دیتے ہیں.
ریاکار
تم نے
اگرمن
کھایا ہے
تو افریقی
جنگلوں کے
پتے
گندم کے
عوض میں
بھی کھا
چکا ہوں
جسموں کی
رنگت دیکھ
کر
انسانیت
پرکھنے
والو
ریا کاروں
کی
رکابیاں
باہر سے
چمکیلی
ہوتی ہیں.
سقراط نے
کہا تھا کہ
بڑا اور
عظیم شاعر
ہنر مندی
سے نہیں
بلکہ نزول
ِ الہام
اور وجد کی
حالت میں
شعر کہتا
ہے قدیم
زمانے میں
شاعر کا
درجہ ایک
کاہن اور
فال گیر کے
برابر
سمجھا
جاتا تھا
کیونکہ
کاہن
عالمِ
وارفتگی
میں جو کچھ
بھی
کہتا تھا
وہ کلامِ
موزوں ہی
ہوتا تھا.اس
کیفیت کو
اُس وقت کے
لوگ الہام
ہی سمجھتے
تھے.زکریا
غوری میں
یہ
(۳)
دونوں
چیزیں بیک
وقت موجود
ہیں وہ
کاہن بھی
ہے اور
شاعر بھی
ہے.مگر ستم
ظریفی یہ
ہے کہ وہ
اکیسویں
صدی کا
کاہن ہے
اور آج یہ
دنیا تیزی
کے ساتھ
ایک گلوبل
ویلج کی
شکل میں
تبدیل
ہوتی جا
رہی ہے. اس
سمٹتی اور
آلودہ
ہوتی دنیا
میں وہ
عبادت ،
خدمت اور
شاعری کے
ذریعے
الہیاتی
فلسفہ کے
باوا آدم
تھامس
اکینوس کے
بنیادی
چار بڑے
اوصاف
دانائی ،
اعتدال ،
انصاف اور
استحکام
کا پرچار
کرتا ہے.اور
امن کے
جزیروں کی
تمنا لئے
زندگی کے
مشکل ترین
سفر پر
گامزن ہے.
امن کے
جزیرے
وحشتوں کی
وادی سے
نکال دے
امن کے
جزیروں
میں پناہ
دے
خوشی
کھانے کو
دے
مسرت
پہننے کو
دے
اگر میری
خواہشوں
کی تکمیل
نہیں کر
سکتا
تو مجھے
پٹخ پٹخ دے
مجھے توڑ
پھوڑ دے.
اُن کی
نظمیں
ہمیں
زندگی کی
اُونچ نیچ
کی سیر
کراتی ہیں
اور زندگی
کے مسائل
کی
بھرپُور
عکاسی
کرتی ہیں
جس میں
زندگی کے
دکھ درد ،
خواب ،
شکست و
ریخت اور
خوبصورت
سوچ کے
عناصر
ملتے ہیں.خاص
طور پر
گہری سوچ
کا ایک
عظیم پس
منظر ملتا
ہے جو اُن
کو منفرد
اور
نمایاں
کرتا ہے کہ
وہ اپنے ہر
زخم پر
خاموشی کا
مرہم لگا
کر دوسروں
کے زخم
دیکھ کر بے
چین ہوتا
اور تکلیف
محسوس
کرتا ہے
اُس نے
زندگی کا
وہ راستہ
اختیار
کیا ہے جس
پر سارے
زمانے کے
دکھ درد
بکھرے پڑے
ہیں اور یہ
دکھ درد
اپنے سینے
میں سمیٹ
لینے کا فن
اُن کے ہاں
موجود ہے.اس
نرم و گداز
دل شاعر کی
شاعری
کامیاب
شاعری ہے
جس میں
زندگیاپنی
تماتر
توانائی
کے ساتھ
ہمارے
سامنے ہے.مثال
کے طور پر
آج سے بیس
پچیس برس
پہلے اُن
کی یہ نظم
دیکھیے جو
ایک
پیشنگوئی
کے طور پر
لکھی گئی
مگر آج یہ
بالکل سچ
ثابت ہوئی
ہے ماحول
کی سنگینی
کے بار ے
یہ ایک
خوبصورت
نظم ہے.
ماحول کی
سنگینی
(۴)
بارُود کے
دھویں سے
اٹی
فضا میں
گیتوں کے
بول دم توڑ
دیتے ہیں
چمکیلی
پُتلیاں
بُجھ سی
جاتی ہیں
رنگین
تتلیاں
سہم کر
کونوں
کھدروں
میں
چھپ جاتی
ہیں.
وہ ترقی
پسند
اُدبا و
شعراء کی
صف میں اُس
مقام پر ہے
جنہوں نے
اردو ادب
میں بھوک و
افلاس ،
غربت ،
سماجی
پستی اور
سیاسی
غلامی
جیسے
موضوعات
کو ا پنایا.
فرسودہ
روایات جو
ہمارے
معاشرے
اور ادب کی
ترقی میں
رکاوٹ ہیں
اُن پر نظر
ثانی کی
تجویز دی
اور ادب کو
رجعت
پسندوں سے
آزادی دلا
کر عوام کے
قریب لانے
کی کوشش کی
ہے.اُن کی
ایک نظم ’’سامراجی
مشغلے‘‘ کا
آخری حصہ
ملاحظہ
کریں.
باہر
اندھیرے
کے راج میں
دولت مند
سامراجیوں
کے پہرے
ہیں
جو ماؤں کے
سینوں کا
تازہ دودھ
خشک کر
دینے میں
خوشی
محسوس
کرتے ہیں
سہاگنوں
کی کوکھ
جلا دینا
فرض جانتے
ہیں
نیم تاریک
گلیاں
اندھیر کر
دیتے ہیں
آباد گھر
برباد
اور زندہ
روحیں قید
کرنا
مشغلہ بنا
لیتے ہیں.
sacwait@alice.it جیم فے
غوری(اٹلی)